ایک بوڑھے آدمے نے مولانا صاحب سے کہا کہ آپ

ج کل بہت سارے والدین اپنے بچوں اور خصوصاً اپنی بچیوں کے رشتے کے بارے میں بڑے پریشان دکھائی دیتے ہیں ۔ ایک دن ایک بزرگ مجھے کہنے لگے کہ آپ جہیز کے موضوع پر جمعہ پڑھائیں کہ یہ ایک لعنت ہے جس کی وجہ سے بہت سی بچیاں بوڑھی ہو رہی ہیں اور ان کے ہاتھ مہندی سے محروم ہیں ۔ میں نے عرض کیا کہ آپ اتنے پریشان کیوں

ہیں کہنے لگے کہ میری بیٹی کی عمر تیس سال ہو گئی ہے اور ابھی تک کوئی اچھا رشتہ نہیں مل رہا ۔ میں نے عرض کیا کہ آپ تو کھاتے پیتے ہیں اور اپنی بیٹی کو جہیز بھی دے سکتے ہیں پھر آپ کی بیٹی کی شادی ابھی تک کیوں نہیں ہوئی ۔ وہ کہنے لگے جہیز تو میں اپنی بیٹی کو حسب توفیق دے ہی دوں گا ۔ لیکن اچھا رشتہہی نہیں مل رہا ۔ میں نے عرض کیا کہ میں ایک نوجوان کو جانتا ہوں جو دین دار ہے اور ٹیلی بھی اچھی ہے وہ مہینے کا چالیس ہزار کما لیتا ہے ۔ آپ حکم کریں تو میں ان سے بات کروں , وہ کہنے لگے

چالیس ہزار میں آج کل کہاں گزارا ہوتا ہے پھر مجھ سے اس نوجوان کے بارے میں معلومات لینے لگے اور پوچھنے لگے کہ ان کا گھر اپنا ہے یا کراۓ کار میں نے کہا ان کا اپنا گھر نہیں ہے ۔ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ۔ پھر کہنے لگے میری بیٹی کو علیحدہ گھر میں رکھے گا یا اس میں میں نے کہا کہ شروع میں تو مشکل ہے ۔ اس کے بھائی بہن کتنے ہیں ، میں نے کہا دو بھائی شادی شدہ ہیں اور تین بہنیں کنواری ہیں ۔ پھر کہنے لگے بہت بڑی فیملی ہے میری بیٹی ساری زندگینندوں کی خدمت ہی کرے گی کیا ۔ کوئی اور رشتہ ہو تو بتائے گا ۔ میں نے اس بزرگ کو احترام میں کچھ نہیں کہا لیکن دل میں سوچتا رہا ۔ بابا جی جہیز لعنت ہے یا نہیں یہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن کیا آپ کے مطالبات دین کے مطابق ہیں ۔ اسلام تو کہتا ہے جب تمہیں کسی مسلمان کا اخلاق اور دین پسند آ جاۓ تو اس کے ساتھ اپنی بیٹی کو رخصت کر دو ۔ لیکن ہم نے اتنی لمبی چوڑی فہرست بنا رکھی ہے کہ جب تک لڑکے میں سب خوبیاں نہیں ہوں گی ہم اپنی بیٹی کو نہیں بیاہیں گے

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *