ایک بوڑھی عورت کے پیچو دو ٹھگ لگ گئے

یک بوڑھی عورت کے پیچو دو ٹھگ لگ گئے ، دونوں  ہی مکار اور چالاک تھے ان کی نظر بڑھیا کے زیورات پر تھی جو کہ خالص سونے کے تھے وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ زیورات بڑھیا سے ہتھیالیں مگر ان دونوں ٹھگوں کی بھی نانی تھی مگر وہ بڑھیا سے ناوقف تھے اور اسے کمزور عورت مجھتے تھے وہ دونوں بڑھیا کے پاس آئے

اور پوچھا اماں جی کہاں جارہی ہو ؟ بڑھیانے کہا بیٹا شہر جا رہی ہوں انھوں نے کہاہم بھی شہر جار ہے ہیں چلو ایک ساتھ چلتے ہیں وہ دونوں ٹھگ اور بڑھیا شہر کی طرف روانہ ہو گئے راستے میں ٹھگوں نے بڑھیا سے کہا کہ کوئی کہانی سنادو بوریت ہو رہی ہے بڑھیانے کہابیٹا تم کوئی کہانی سنادو ۔ ٹھگوں نے کہاہم ایک شرط پر

کہانی سنائیں گے کہ اگر تم نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے تو مجھے یا سونے کا کنگن ہیں دینا پڑے کا بڑھیانے کہا ٹھیک ہے بیٹا انہوں نے کہانی سانی شروع کر دی کہ جارے ایک کانے تھی وہ کائے اتنا دودھ دیتی تھی کہ پورا کاؤں اس کا دودھ پیتا تھا مگر پھر بھی دودھ ختم نہیں ہو تا تھا اس کانے کا ایک سینگ پاکستان اور دوسرا سینگ

ہند وستان میں تھا بڑھیا نے کہا واہ کیا خوب گائے تھی  ٹھگوں کی کوئی چال کام بھی کامیاب نہیں ہو رہی تھی تو بڑھیانے کہا کہ اب میں تم کو ایک کہانی سناتی ہوں مکر ایک شرط یہ ہے کہ اگر تم نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے تو تمہیں 100 روپے مجھے دینے پڑیں کے بڑھیانے اپنی کہانی شروع کرتے ہوئے کہا کہ جب میری شادی

ہوئی تھی تو مجے جہیز میں ایک بیل دیا گیا بیل اتنا موٹا تازہ تھا کہ پورے علاقے میں ایسا بیل کسی کا نہیں تھا ایک دن ھمارے بیل کی گھر کے باہر کسی دوسرے بیل سے بل لڑائی ہو گئی دونوں کافی دیر تک آپس میں لڑتے رہے اور ھمارے بیل کی پیشانی زخمی ہو گئی زخمی پیشانی سے ایک قطرہ خون   نیچے گرا اور اس سے بنولہ کے بیچ

پر گرا اور اس سے کپاس پیدا ہوئی کپاس اتنی زیادہ مقدار میں پیدا ہوئی کہ ہم نے اپنے گھر والوں کے لیے چادریں بنوائی ان چادروں میں سے دو چادریں چوری ہوگئی تھیں اور خدا جھوٹ نہ بلوائے تو یہ چادر میں تم دونوں کے کندھوں پر ہیں یہ کہہ کر بڑھیانے دونوں چادریں ٹھگوں سے لے لیں اس کے بعد بڑھیانے کہا کہ ان

چادروں سے ہم نے ملل کے تھان بنوانے تھے اور جو پگڑیاں تم دونوں نے پہنی ہوئی ہیں اس ملل کے تھا ن کی ہیں جو تم نے چارے گھر سے چوری کی تھی یہ کہ کر بڑھیانے ان دونوں کی پگڑیاں بھی اتار لیں ٹھگوں نے دل میں سوچا یہ تو ہم سے بھی بڑی ٹھگ علی مگر ان کو یہ نہیں پتا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے جب

شہر پہنچ گئے تو ٹھگوں نے کہا کہ میں بھوک گئی ہے کھاتا تو کھلا دو ، بڑھیانے کہامیرے پاس تو پیے نہیں ہیں تو ٹھگوں نے کہا اپنے سونے کے کنکن بیچ دو بڑھیانے کہا تم ادھر بیٹو میں سنار کی دوکان پر کنکن بیچ کر واپس آتی ہوں جب بڑھیا سونار کی دو کان پر کنگن لے کر گئی رو اس دوکان کے سنار سے کہا کہ میں نے غلام

بیچنے ہیں ؟ بڑھیا نے دور سے ٹھگوں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا ایک کو بیچوں یا تم دونوں ہی بکو گے ؟ ٹھگ سمجھے کہ بڑھیا پوچھ رہی ہے کہ ایک کنکن بیچوں یا دونوں ، دونوں ٹھگوں نے اشارے بڑھیا کو جواب دیا کہ دونوں ہی بیچ دو بڑھیا سنار سے دونو تھکوں کی رقم وصول کر لی

چلی گئی اور ٹھگوں سے کہا تم یہاں بیٹھو میں کھانا لے کے واپس آتی ہوں دونوں ٹھگ بڑھیا کا انتظار کرتے رہے مگر وہ نہ آئی تھوڑی دیر بعد سنار کے کچھ آدمی ٹھگوں کے پاس آئے اور ٹھگوں سے  کہا چلو تمہیں تمہارا مالک بلا رہا ہے ٹھگوں نے حیرانی سے پوچھا کہ کون سا مالک تو آج میں بولا تھوڑی دیر پہلے ایک بڑھیا نے تمہیں سنار کے ہاتھ میں بھیج دیا ہے

اسی طرح اور دونوں ٹھگ جو بوڑھے کو لوٹنے کا سوچ رہے تھے خود ہی لوٹ گئے

Categories

Comments are closed.