ایک بوڑھی عورت نے انٹر نیشنل ایئر پورٹ کے خلاف عدالت میں کیس درج کر دیا

ایک ایئر پورٹ کے قریب ایک گاؤں تھا جس کا نام  ایک رہائشی بوڑھی عورت نے انٹر نیشنل ایئر پورٹ کے خلاف عدالت میں کیس کر دیا ۔ اور وجہ کچھ یوں بیان کی کہ رات کے وقت جہازوں کا شور اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ میں رات بھر سو نہیں سکتی ۔ جس کی وجہ سے میری طبیعت اکثر خراب رہتی ہے ۔ عدالت میں جج نے اس بوڑھی عورت کی ساری بات سنی اور اس عورت سے پوچھا کہ اب آپ کیا چاہتی ہیں۔ اس شور کے عوض آپ ایز پورٹ سے کچھ معاوضہ حاصل کرنا چاہتی ہیں یا ایر پورٹ سے دور ایک عدد گھر حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

عورت نے کچھ یوں جواب دیا میں یہاں اپنے ذاتی گھر میں رہتی ہوں اور کافی عرصہ دراز سے یہاں زندگی بسر کر رہی ر لیکن اب میری طبیعت اس قدر اتنا زیادہ شور برداشت نہیں کر سکتی ۔ اس لیے مجھے نہ تو کوئی پیوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی میں کوئی اور گھر قدر اتنا زیادہ شور برداشت نہیں کر اس لیے مجھے چاہتی ہوں ۔ اس مسئلے کا کوئی اور معقول حل تلاش کر یں۔ عورت کی یہ بات سن کر اس وقت کے موجودہ حکام بھی بہت پریشان ہو گئے کہ اب اس مسئلے کا کیا حل ہو سکتا ہے نہ تو عورت یہاں سے جانا چاہتی ہے اور نہ ہی اتنے بڑے ایئر پورٹ کو کہیں منتقل کیا جا سکتا ہے ۔ ایئر پورٹ حکام نے عورت کو اپنے کیس سے پیچھے ہٹ جانے کے لیے بے شمار فرمائشیں پیش کیں ۔ انہوں نے ایر پورٹ سے دور عالی شان گھر کی آفر کے ساتھ ساتھ بہت بڑی رقم دینے کی آفر بھی کی۔ لیکن وہ عورت اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔ آخر کار تھک ہار کر جج نے کہا کہ اگر ہم آپ کی نیند کے ٹائم کو مینیج کر لیں مطلب رات کا ایک ایسا مخصوص ٹائم جب آپ سو رہی ہو تب ایئر پورٹ پر کوئی بھی فلائٹ نہیں اترے گی ۔ کیا آپ کو یہ فیصلہ منظور ہے ۔ اس فیصلے سے عورت مطمئن ہو گئی ۔ اور تب سے لے کر آج تک اس ایئر پورٹ پررات 12 سے لے کر صبح 5 بجے تک کوئی فلائٹس نہیں اترتی ۔ یہ ہے وہ عزت وہ مقام اور وہ انصاف جو جرمنی اپنی عوام کیکس پئر لوگوں کو دیتا ہے ۔ یہاں ہر انسان کے حقوق برابر ہیں ۔

Categories

Comments are closed.