ایک بوڑھا آدمی بس پر بیٹا سفر کر رہا تھا کہ

کہتے ہیں کہ قاہرہ سے اسوان جانے والی گاڑی میں سوار اس عمر رسیدہ شخص کی عمر کم از کم ساٹھ سال تو ہو گی اور اوپر سے اس کے لباس اور ہر زاویے سے وہ دیہاتی دکھائی دے رہا تھا ۔ مگر وہ بہت ہی ذہین آدمی تھا ۔ ایک اسٹیشن پر گاڑی رکی اور ایک نوجوان جوڑا گاڑی میں سوار ہوا جو اس بوڑھے آدمی کے سامنے والی سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا ۔ صاف لگ رہا تھا کہ ان کی نئی نئی

شادی ہوئی تھی مگر افسوس کی بات یہ تھی کہ لڑکی نے انتہائی نامناسب لباس پہنا ہوا تھا جو کہ ایک تنگ پیٹ اور بغیر بازوؤں کے کھلے گلے والی شرٹ پر مشتمل تھا , جس سے اس کا سارا جسم دعوت نظارہ بنا ہوا تھا ۔ مصر میں ایسا لباس پہنا کوئی اچھوتا کام نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسا لباس پہنے کسی لڑکی کو شوہدے پن سے دیکھتا یا تاڑ تا ہے مگر دوسرے مسافروں کے ساتھ و ۔

اتھ لڑکی کی خاوند کی حیرت دید کے قابل تھی کیوں کہ اس بوڑھے آدمی نے لڑ کی کو آ نکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا شروع کر دیا تھا ۔ چہرے سے پروقار اور محترم نظر آنے والے اس بوڑھے شخص کی نظر میں سمجھی اس لڑکی کے شانوں پر اور کبھی اس کی ٹانگوں پر تھیں ۔ اور وہ یہ سارا منظر تسلی کے ساتھ دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ بوڑھے کی ان حرکات سے جہاں لڑ کی بے چین

پہلو پر پہلو بدل رہی تھی وہی لڑکا بھی غصے سے تلملا رہا تھا ۔ آخر کار اس نے بھٹتے ہوۓ کہا ۔ بڑے میاں کچھ تو حیا کروں تمہیں شرم آنی چاہیے , اپنی عمر دیکھو اور اپنی حرکتیں دیکھو اپنا منہ دوسری طرف کرو اور میری بیوی کو سکون سے بیٹھنے دو ۔ بوڑھے دیہاتی نے لڑکے کی بات تحمل سے سنی اور بڑی تسلی سے جواب دیا ۔ لڑ کے میں نا تو جواہا تجھے یہ کہنا چاہتا ہوں ۔

کہ تو خود کچھ شرم و حیا کر اور نہ ہی تجھے یہ کہوں گا کہ تجھے اپنی بیوی کو ایسا لباس پہناتے ہوۓ شرم آنی چاہیے ۔ تو ایک آزاد انسان ہے , بھلے تو بغیر کپڑوں کے گھوم اور ساتھ اپنی بیوی کو بھی گھا ئے لیکن میں تجھے ایک بات ضرور کہنا چاہتا ہوں ۔ کیا تو نے اپنی بیوی کو ایسا لباس اس لیے نہیں پہنایا کہ ہم اسے دیکھیں ۔ اگر تیرا منشا ایسا تھا تو پھر کاہے کا غصہ اور کسبات کی تلملاہٹ ۔ بوڑھے آدمی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوۓ کہا : دیکھ میرے بیٹے , تیری بیوی کا جتنا جسم ڈھکا ہوا ہے اس پر تیرا حق ہے کہ تو دیکھو مگر اس کا جتنا جسم کھلا ہوا ہے اس پر تو ہم سب عوام کا حق بنتا ہے کہ ہم دیکھیں ۔ اور اگر تجھے میرا اتنا قریب ہو کر تیری بیوی کو دیکھنا برا لگا ہے تو یہ میرا قصور نہیں ہے یہ میری نظر کا قصور ہے جو کمزور ہے اور مجھے

دیکھنے کے لئے نزدیک ہونا پڑتا ہے ۔ بوڑھے آدمی کی باتیں نہیں بلکہ ایک اچھا درست تھا ۔ مگر ذرا ہٹ کر ۔ لوگوں نے جان لیا تھا کہ بوڑھا اپنا پیغام اس تک پہنچا چکا ہے ۔ لڑ کی کا چہرہ شرم سے سرخ ہو رہا تھا اور لڑکا تو منہ چھپاۓ چلتی گاڑی سے اترنے پر آمادہ ہو رہا تھا ۔ اور ہوا بھی ایسے ہی اگلے اسٹیشن پر لڑکا گاڑی سے اترنے کے لیے باہر کی طرف لپکا تو اس بوڑھے آدمی نے پیچھے سے

آواز دیتے ہوۓ کہا ۔ بیٹے ہمارے دیہات میں درخت پتوں سے ڈھکے رہیں تو ٹھیک ورنہ کسی درخت سے پتے گر جائیں تو ہم اسے کلہاڑی سے کاٹ کر آگ میں جلا دیتے ہیں ۔ ے

Categories

Comments are closed.