ایک بزرگ نے خانہ خدامیں مرنے کی دعا کی تھی وہ قبول ہو گئی اور

مارے ایک 65 سالہ بزرگ سعودی عرب گئے ۔ گرمی اور رش میں سر چکرایا تو بے ہوش ہو گئے ۔ اسپتال پہنچایا گیا ۔ کچھ دیر بعد ہوش آیا تو انہوں نے دماغ پر زور دیا کہ میرے ساتھ ہوا کیا تھا ۔ خیال آیا کہ میں نے خانہ خدا میں مرنے کی دعا کی تھی شاید وہ قبول ہو گئی ہے ۔ آس پاس نظر دوڑائی ۔ صاف ستھرا ہسپتال ۔ سفید براق بستر اور اس پر سفید چادر ہیں ۔

اتنی صفائی پاکستان میں کہاں دیکھی تھی ۔ سمجھا مر چکا ہوں اور اب جنت میں ہوں ۔ جلدی سےبستر سے اترے اور اپنے محل کی وسعت کا اندازہ لگانے کمرے سے باہر نکلے ۔ سامنے فلپائنی نرس سفید یونیفارم میں اپنے کام میں مگن تھی ۔ گوری چٹی۔کسی گڑیا کی مانند نازک اندام ۔ بابا جی فرط جذبات سے مغلوب ہو کر پکار اٹھے ۔ ماشاءالله !!! حور العین !!! حور العین !!! حور العین !!! ہسپتال میں کھلبلی مچ گئی ۔ آس پاس جتنی بھی نرسیں تھیں ۔ سب بابا جی کو کنٹرول کرنے کے لیے دوڑی چلی آئیں ۔

خیال تھا کہ ہیٹ اسٹروک سے باباجی سٹھیا گئے ہیں ۔ لیکن بابا جی توکسی اور دنیا میں تھے ۔ سمجھے ستر کی ستر حوروں نے ایک ساتھ ہی ہلہ بول دیا ہے ۔ بڑے ٹپٹاۓ اور بیچارگی سے کہنے لگے۔اب ایسا ظلم تو مت کرو ۔ ایک ایک کر کے آو نا ۔

Categories

Comments are closed.