ایک بحری جہاز میں کافی بوجھ تھا سفر کے دوران طوفان کی وجہ سے ہچکو لے کھانے لگا

ایک بحری جہاز میں کافی بوجھ تھا سفر کے دوران طوفان کی وجہ سے ہچکو لے کھانے لگا جہاز ڈوبنے کے قریب تھا لہٰذ ا اس کے کپتان نے تجو یز پیش کی کہ جہاز پو بوجھ ہلکا کرنے اور زندہ رہنے کے لیے کچھ سا مان کو سمندر میں پھینک دیا جائے۔ تو انہوں نے متفقہ طور پر اس بات پر ا تفاق کیا کہ ایک سوداگر کا سارا سا مان چھوڑ دیا جائے کیو نکہ یہ ڈوبنے سے بچنے کے لیے بہت ہو گا جس تا جر کا سا مان پھینکا جا نا تھا اس نے اعتراض کیا کہ کیوں اس کا ہی سارا سا ما ن پھینکا جائے اور تجویز پیش کی کہ سارے تا جروں کے سا مان میں سے تھوڑا تھوڑا پھینکا جائے تا کہ نقصان تمام لوگوں میں تقسیم ہو اور نہ صرف ایک شخص متاثر ہو۔

تب باقی سارے تاجروں نے اس کے خلاف بغاوت کی اور چو نکہ وہ ایک نیا اور کمزور سو داگر تھا اس لیے انہوں نے اس کے سا ما ن کے ساتھ اسے سمندر میں پھینک دیا اور اپنا سفر جاری رکھا۔ لہروں نے سوداگر کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو گیا جب وہ بیدار ہوا تو اسے معلوم ہوا کہ لہروں نے اسے کسی نا معلوما ور ویران جزیرے کے کنارے پھینک دیا ہے۔ سوداگر بہت مشکل سے اٹھا اور سانس لیا یہاں تک کہ وہ گھٹنوں کے بل گر گیا اور خدا سے مدد کی درخواست کی اور کہا کہ وہ اسے اس تکلیف وہ صورتحال سے بچائے۔

کئی دن گزرے ، اس دوران تاجر نے درختوں کے پھل اور خرگوش کا شکار کر کے گزارا گیا اور پانی قریبی ندی سے پیتا اور رات کی سردی اور دن کی گرمی سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے درخت کی لکڑی سے بنی ایک چھوٹی جھو نپڑی میں سوتا۔ ایک دن ، جب تا جر اپنا کھا نا بنا رہا تھا تیز آندھی چل رہی تھی اور اس کے ساتھ لکڑی کی جلتی ہوئی لاٹھی اٹھ جاتی ہے اور اس کی لا پرواہی میں اس کی جھو نپڑی میں آگ لگ جاتی تھی لہٰذا اس نے آگ بجھانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ ایسا نہ کر سکا کیوں کہ آگ نے پوری جھو نپڑی کو اس کے ساتھ ہی بھسم کر دیا یہاں سوداگر چیخنے لگا: کیوں ، رب۔۔؟ مجھے غلط طریقے سے سمندر میں پھینک دیا گیا اور میرا سا مان ضائع ہو گیا اور اب تو یہ جھو نپڑی بھی جو میرے گھر ہے جل گئی ہے۔

اور میرے پاس اس دنیا میں کچھ نہیں بچا ہے اور میں اس جگہ پر اجنبی ہوں۔ یا اللہ یہ ساری آفتیں مجھ پر کیوں آتی ہیں اور سوداگر غم سے بھو کا ہی رات کو سو گیا لیکن صبح ایک “حیرت انگیز واقعہ” اس کا انتظار کر رہا تھا جب اسے جزیرے کے قریب پہنچنے والا ایک جہاز ملا اسے بچانے کے لیے ایک چھوٹی کشتی سے اتر رہا تھا۔ جب اسے جزیرے کے قریب پہنچنے والا ایک جہاز ملا اسے بچانے کے لیے ایک چھوٹی کشتی سے اتر رہا تھا۔ اور جب سوداگر جہاز پر سوار ہو ا تو خوشی کی شدت سے یقین نہیں کر پا رہا تھا اور اس نے ان سے پو چھا کہ انہوں نے اسے کیسے ڈھونڈ ا اور اس کا ٹھکا نہ کیسے جا نا؟ انہوں نے اس کا جواب دیا: ہم نے دھواں دیکھا لہٰذا ہمیں معلوم ہوا کہ کوئی شخص مدد کے لیے پکا ر رہا ہے لہٰذا ہم دیکھنے آئے۔

Categories

Comments are closed.