ایک امیر اور حسین و جمیل عورت مدرسے کے نوجوان پر عاشق ہوگی

یک عالم دین یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عورت روز ایک نوجوان کو دیکھتی لیکن وہ اس کو دیکھے بغیر سر جھکا کر اس کی گلی سے گزر جاتادیکھنے میں وہ نوجوان کسی مدرسے کا طالب علم تھا لیکن وہ نوجوان اتناخو بصورت تھا کہ وہ اسے دیکھتے ہی اسے اپنا دل دے بیٹھی اور وہ چاہتی تھی کہ وہ نوجوان کسی طرح اس پر نظر ڈالے لیکن وہ اپنی مستی میں سر جھکائے زیر لب کچھ پڑھتا اور روزانہ اپنے مقرر وقت پر وہاں سے گزر جاتا ۔

اور بھی آنکھ آٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا لیکن اب اس عورت کو ضد سی ہو گی تھی وہ حیران تھی کہ کوئی ایسا نوجوان بھی ہو سکتا ہے جو اس کو نہ دیکھے لیکن وہ اپنے علاقے کی سب سے امیر اور خوبصورت عورت تھی خوبصورت اتنی تھی کہ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتی تھی تو لوگ اس کو دیکھتے ہی رہتے لیکن وہ عورت خود کسی کو پسند کرتی تھی اور اسے اپنی طرف مائل کر ناچاہتی تھی لیکن وہ اپنی انا کی شکست اور خوبصورتی کی توہین پر وہ پاگل ہو گئی ۔

اور کوئی ایسا منصوبہ سوچنے لگی جس سے وہ اس نوجوان کو حاصل کر سکے اور اس غرور توڑ سکے آخر کار شیطان نے اسے ایسا طریقہ سمجھادیا جس میں نس کر وہ نوجوان اس کی بات مانے بغیر نہیں جاسکتا اگلے دن جب وہ نوجوان اس گلی سے گزر رہا تھا کہ ایک عورت اس کے قریب آئی اور کہنے لگی بیٹامیری مالکن نے آپ سے ایک بات کرنی ہے اس نوجوان نے کہا اماں جی آپ کی مالکن کو مجھ سے کیا کام ہے اس عورت نے کہا ۔

کہ بیٹا اس نے تم سے کوئی مسلئہ پوچھنا ہے وہ مجبور ہے باہر نہیں آسکتی نوجوان اس عورت کے ساتھ چلا گیا اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا جو عورت اسے بلارہی ہے اس کا منصوبہ کیا ہے وہ کیا چاہتی ہے وہ تو اپنی فطرتی سادہ دلی کی وجہ سے اسکی مدد کرنے کے لئے اس کے گھر آگیا اس کے ذہین میں تھا کہ شاہد وہ کوئی بوڑھی عورت ہے جو اپنی معذوری کی وجہ سے باہر نہیں آسکتی نوکرانی نے اسے ایک کمرے میں بیٹھادیا اور انتظار کرنے کا کہہ کر چلی گئی ۔

تھوڑی دیر بعد کمرے میں وہ عورت داخل ہوئی نوجوان نے اپنی نظر میں جھکالی پھر نوجوان نے پوچھا جی بی بی آپ نے کون سامسلئہ پوچھنا ہے تو اس عورت کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آگئی اس عورت نے اپنے دل کا حال کھول کر رکھ دیا اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں تمہیں حاصل کروں تو وولٹ کا پریشان ہو گیا اور کہنے لگا اللہ کی بندی اللہ سے ڈرویہ گناہ ہے اس نے عورت کو بہت سمجھانے کی شش کی لیکن عورت پر تو شیطان سوار تھا ۔

اس نے کہا یا تو تم میری خواہش پوری کرو گے اگر نہیں کرو گے تو میں شور مچاؤں گی کہ تم زبر دستی میرے گھر میں داخل ہوۓ اور میری عزت پر حملہ کیا نوجوان یہ سن کر پریشان ہو گیا اپنی عزت کو بچانے کا سوچنے لگا گر اس کی بات مانتا ہوں تو گناہ گار ہو جاؤں گا اگر نہیں مانتالوگوں کی نظروں میں ٹراختا ہوں اسے یہ گوارہ نہیں تھاوہ عجیب مشکل میں پھنس گیادل ہی دل میں وہ اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور اللہ سے مدد چاہی ۔

تو اس کے ذہین میں ایک ترکیب آئی اس نے عورت سے کہا کہ ٹھیک ہے میں تمہاری خواہش پوری کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن پہلے مجھے واش روم جانے کی حاجت ہے عورت نے اسے واش روم کا بتاد یا اس نوجوان نے اندر جا کر بہت ساری غلاظت اپنے جسم پر مل لی اور باہر آ گیا ، عورت اسے دیکھتے ہی بولی میرے گھر سے نکل جاؤ نوجوان اس کے گھر سے نکل گیا اور قریب ہی

ایک نہر پر اپنے آپ کو اور اپنے کپڑوں کو اچھی طرح پاک کیا اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔ اور واپس مدر سے چلا گیا نماز پڑھنے کے بعد جب وہ سبق پڑھنے بیٹھاتو توڑی دیر بعد استاد نے کہا آج تو بہت ہی پیاری خوشبو آرہی ہے کس طالب علم نے خوشبو لگائی ہے وہ نوجوان سمجھ گیا کہ اس کے جسم سے بد ہو گئی نہیں اور استاد طنز کر رہے ہیں تھوڑی دیر بعد استاد نے پھر پوچھا کہ یہ خوشبو کس نے لگائی

ہے لیکن وہ خاموش رہا آخر کار استاد نے سب کو ایک ایک کر کے بلایا اور خوشبو سونگھنے لگے اس نوجوان کی باری آئی ۔ تو وہ بھی سر جھکا کر استاد کے سامنے کھڑا ہو گیا استاد نے اس کے کپڑوں کو سونگھا تو وہ خوشبو اس کے کپڑوں سے آرہی تھی استاد نے کہا کہ تم بتا کیوں نہیں رہے تھے یہ خوشبو تم نے لگائی ہے نوجوان روپڑا اور کہنے لگا استاد جی اب اور شرمندہ نہ کر میں مجھے پتا ہے کہ میرے کپڑوں سے بد بو آ رہی ہے لیکن

میں مجبور تھااور اس نے سار اواقعہ استاد کو بتایا استاد نے کہا میں تمہار امذاق نہیں اڑار بااللہ کی قسم تمہارے کپڑوں سے خوشبو آرہی ہے ۔ جو میں نے آج سے پہلے نہیں سو نگھی تم نے اپنے گناہ کو بچانے کے لئے اپنے آپ کو گندگی لگالی لیکن اللہ نے اسی گندگی کو خوشبو میں بدل دیا جو اس دنیا کی نہیں لگتی ، کہتے ہیں کہ اس نوجوان کے اس کپڑوں سے ہمیشہ وہ خوشبو آتی رہی ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *