ایک امیر آدمی ایک ناچنے والی لڑکی کے عشق میں پاگل ہو گیا اور اسے

ایک رئیس کو اس کے دوست نے ایک محفل میں دعوت دی ۔ رئیس جب محفل میں پہنچا تو ادھر ایک ناچنے والی لڑکی آئی ہوئی تھی ۔ وہ رقص کر رہی تھی اور لوگ اس پر چیوں کی بارش کر رہے تھے ۔ رئیس کو وہ لڑکی پہلی ہی نظر میں پسند آگئی ، رئیس نے اپنے ایک آدمی سے اس بات کا پتہ کروایا کہ وہ لڑکی کہاں رہتی ہے ۔ آدمی نے رئیس کو بتایا کہ وہ ایک کوٹھے میں رہتی ہے ۔ کو ٹھے کی مالکن کے پاس ناچنے والی دس لڑکی رہتی تھی اور مالکن

ان کو محفلوں میں بھیج کر پیسہ کماتے تھی ۔ رئیس کو ٹھے کی مالکن کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میں اس لڑکی شادی کرنا چاہتا ہوں ، یہ لڑکی محفلوں کی زینت بننے کے لئے نہیں ہے میں اس کو اپنے گھر کی عزت بنانا چاہتا ہوں ۔ کوٹھے کی مالکن ایک لالچی عورت تھی اس نے رئیس سے کہا کہ یہ لڑکی جو تم کو پسند آئی ہے یہ تو مجھے ب سے زیادہ کما کر دیتی ہے اگر میں اس کو تمہارے ساتھ روانہ کر دوں تو میرا کیا ہو گا ۔ میں تو سڑک پر آ جاؤں گی ۔ رئیس نے

مالکن کا لالچ دیکھتے ہوۓ پچاس ایکڑ زمین اسکے نام کر دی اسکے بعد مالکن نے لڑکی رئیس کے حوالے کی ۔ پھر رئس نے دوسرے دن ہی لڑکی سے نکاح کر لیا ۔ رئیس کی پہلی بیوی کو جب اس بات کا پتہ چلا کہ میرے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے تو وہ اس کو چھوڑ کر میکے چلی گئی ۔ شادی کے بعد رئیس نے اس لڑکی کو بہت خوش رکھا اور اسے ہر قسم کی آسائش مہیا کی ۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد لڑکی کو ایک عجیب سی پیاری لگ

گئی اور وہ دن بدن کمزور ہوتی گئی اس کے جسم میں خون کی کمی ہونے لگی اور چہرے کی رنگت پیلی پڑ گئی۔رئیس نے بہت سارے حکیموں سے اس کا علاج کر وایا مگر وہ ٹھیک نہ ہوئی ۔ اس کی حالت ہر دن کے گزرنے کے ساتھ خراب ہوتی گئی ۔ رئیس اس بات پر حیران تھا کہ آخر اس لڑکی کو ایسا کیا ہوا ہے ۔ آخر کار نوبت یہاں تک آگئی کہ لڑکی کمزوری کی وجہ سے چل پھر نہیں سکتی تھی ، رئیس کو اس کے ایک غلام نے مشورہ دیا

کہ فلاں علاقے میں ایک بہت ہی قابل حکیم رہتا ہے وہ آپ کی بیوی کا علاج ضرور کرے گا۔رئیس نے اسی وقت سواری کے ساتھ اپنے ملازم بھیجے جو اس حکیم کو رئیس کے گھر لے آۓ ۔ حکیم نے لڑکی کو غور سے دیکھا اور پھر رئیس سے پوچھنے لگا کہ اس کا علاج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مجھے اس لڑکی کے ماضی کا علم ہو ۔ آپ مجھے اس کے ماضی کے بارے میں معلومات دیں۔رئیس نے حکیم کو سب کچھ بتادیا پھر حکیم نے

اپنا دایاں ہاتھ لڑکی کی نبض پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے لڑکی کے سامنے ایک تھیلے میں سے ایک قیمتی موتیوں سے جڑا ہوا بار نکالا لیکن اس کی طبیعت میں کسی قسم کی بہتری نہ آئی۔اس کے بعد حکیم نے تھیلے میں سے کچھ کھنگر و نکالے ، کھنگرو کی آواز سن کر لڑکی کی طبیعت میں کافی بہتری آئی یہ دیکھ کر حکیم نے رئیس کو ایک مشورہ دیا کہ اس لڑکی کو واپس اس کو ٹھے والی عورت کے حوالے کر دو یہ ٹھیک اس

ہو جاۓ گی۔رئیس حکیم کی اس بات کو ماننے کے لیے بالکل تیار نہ تھا مگر اس لڑکی کی زندگی بچانے کے لیے وہ حکیم کے مشورے پر راضی ہو گیا ۔ پھر رئیس کو ٹھے کی مالکن کے پاس گیا اور لڑکی کو اس کے حوالے کرتے ہوئے کہنے لگا کہ یہ ایک مہینے تک تمہارے پاس رہے گی ایک مہینے کے بعد میں اسے واپس لے جاؤں گا۔ایک مہینے کے بعد جب رئیس واپس آیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ لڑکی نہ صرف اپنے پیروں پر چل رہی

تھی بلکہ اس کے چہرے کی رونق بھی واپس آچکی تھی۔رئیس بہت حیران ہوا اور دل میں سوچنے لگا ایسا کیسے ممکن ہے کہ ایک عورت کو میں گندگی سے صاف جگہ پر لے گیا مگر وہ تو گند گی میں رہنا پسند کرتی ہے رئیس نے اس وقت اسے طلاق دی اور ا گھر واپس چلا گیا ۔ پھر جب اس حکیم سے رئیس کی ملاقات ہوئی تو حکیم نے کہا کہ جس بھکاری کو در در مانگنے کی عادت پڑ جاۓ تو وہ ایک جگہ پر کیسے رہ سکتا ہے وہ عورت اس ماحول کی عادی ۔ہو چکی تھی اس لیے وہ آپ کی حویلی میں نہیں رہ سکتی تھی ۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی کسی کو عزت راس نہیں آتی

Categories

Comments are closed.