ایک آدمی کسی عورت پر فریفتہ ہو گیا اور وہ عورت ایک دن کسی کام

یک آدمی کسی عورت پر فریفتہ ہو گیا اور ہر وقت اسی خیال میں ڈوبار ہتا کہ کسی بھی طرح اس عورت سے ملاقات ہو جاۓ اور میں اسے اپنے دل کا حال سنا سکوں کہ مجھے اس سے کتنی زیادہ محبت ہے ، پھر ایک دن وہ عورت کسی کام کے سلسلے سے ایک قافلے کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئی ۔

وہ آدمی بھی موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا ۔ جب جنگل سے گزرتے ہوۓ شام ہو گئی تو قافلہ رات گزارنے کے لیے وہیں رک گیا ۔ پھر کھانا کھانے کے بعد جب سب لوگ ۔ لاد سو گئے تو وہ آدمی آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس عورت کے پاس آیا اور اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا شور کرنے سے پہلے ایک بار میری بات سن لینا اور پھر اس عورت سے اپنا حال دل بیان کرنے لگا ۔ عورت نے اس آدمی کی بات سننے کے بعد اسے کہا کہ پہلے دیکھو کیا قافلے کے سب لوگ سو گئے ہیں ۔ ۔

عورت کے یہ الفاظ سن کر وہ آدمی دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ شاید عورت بھی میری طرف مائل ہو گئی ہے چنانچہ وہ جلدی سے اٹھا اور قافلے کا جائزہ لیا تو اسے معلوم ہو گیا کہ سب لوگ سو بہت خوش ہوا کہ شاید عورت رہے ہیں ۔ پھر وہ آدمی عورت کے پاس آیا اور کہنے ۔ لگا کہ آپ فکر نہ کر میں سب لوگ سورہے ہیں ۔ آدمی کی نیت کو دیکھتے ہوۓ عورت کہنے لگی ! اللہ تعالی کے بارے میں تم کیا کہتے ہو کیا وہ بھی اس وقت سو رہا ہے مرد نے جواب دیا اللہ تعالی نہ ***  سوتا ہے نہ اسے نیند آتی ہے اور نہ اسے اونگھ آتی ہے یہ سن کر عورت کہنے لگی جو نہ کبھی سویا اور نہ سوۓ گا وہ تو ہمیں دیکھے گاندو لوگوں کی بجاۓ ہمیں تو اللہ تعالی سے ڈرنا چاہیے ۔ عورت کی اس بات نے اس آدمی کو اتنا زیادہ متاثر کر دیا کہ اس نے اللہ تعالی کے خوف کے سبب عورت کو چھوڑ دیا اور گناہ کے ارادے سے باز آ گیا ۔

Categories

Comments are closed.