ایک آدمی سونے کی گھڑی پہن کر ٹرین

رانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک بہت ہی ذہین آدمی ایک ٹرین میں سفر کر رہا تھا ۔ وہ ٹرین کے ڈبے میں اکیلا بیٹا اخبار پڑھ رہا تھا کہ اتنے میں پینٹ شرٹ پہنے ہوۓ ایک حسین و جمیل لڑکی بھی اسی ڈبے میں آ کر کر بیٹھ گئی ۔ وہ آدمی اخبار پڑھنے میں مصروف تھا , اس آدمی کے ہاتھ میں سونے کی گھڑی تھی اور اس نے انگلی میں سونےکی انگو ٹھی بھی پہن رکھی تھی ۔

جب اس لڑکی کی نظر سونے کی گھڑی اور اس انگو ٹھی پر پڑی تو اس لڑکی نے فوراً کہا ۔ اے نوجوان یہ انگو ٹھی اور گھڑی اتار کر مجھے دے دو ورنہ میں شور مچا دوں گی اور جب پولیس والے مجھ سے پوچھیں گے تو میں ان سے کہوں گی کہ تم نے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وہ نوجوانکوئی عام آدمی نہیں تھا بلکہ بہت بڑا امیر پیشہ ور انسان تھا ۔ جب اس نے یہ بات سنی تو وہ بہت پریشان ہوا اور اس نے سوچا کہ آج اگر میں ایک لڑکی کے ہاتھوں لٹ جاتا ہوں تو میری مردانگی پر بھی شک ہو گا ۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اس نے لڑکی کو اشارے سے کہا کہ میں بہرہ ہوں اور جو تم کہنا چاہتی ہو وہ مجھے لکھ کر دور پھر اس لڑکینے ایک کاغذ پر لکھ کر دے دیا کہ تم یہ سونے کی گھڑی اور انگو ٹھی مجھے اتار کے دے دو ورنہ میں اس ڈبے میں شور مچا دوں گی اور پولیس والوں سے کہو گی کہ تم نے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جب اس لڑ کی نے یہ لکھ کر دے دیا تو اس آدمی نے وہ کاغذ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور پولیس والے کو بلا لیا اور وہ کاغذ دیکھاتے ہوئے کہا کہا

ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا تو اس کے حاسد نے اس جگہ پر موجود لوگوں کو اکٹھا کیا اور اس عقل مند نوجوان کو کہا کہ اگر تیرے سامنے ایک بیگ میں عقل اور دوسرے بیگ میں پیے رکھے جائیں , تو تم کس چیز کو اٹھاؤ گے تو اس نوجوان نے جواب دیا کہ ہر آدمی وہی چیز پانے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی اور میں تو پیسے والا بیگاٹھاؤں گا اور اللہ کا شکر ہے عقل میرے V ہوئی بہت ہے ۔ ایک اور جگہ وہی نوجوار کھانا کھانے کے لئے گیا تو وہ جان بوجھ کر اپنے ایک حاسد کے ساتھ کرسی پر جا کر بیٹھ گیا ۔ اس کا حاسد کھانا کھا رہا تھا تو اس نے کہا کہ ایک ہی جگہ پر کبھی خنزیر اور کبوتر کھانا نہیں کھا سکتے تو اس نوجوان نے کہا کہاڑ کر دوسری کرسی پر چلا جاتا ہوں اور اسی طرح اس نے اپنی باتوں میں اس آدمی کو خنزیر اور خود کو کبوتر بنا لیا ۔ اور آدمی کا جواب بھی دے دیا ۔ دوستوں وہ آدمی کوئی عام انسان نہیں تھا بلکہ ہمارا رہنما اور ہمارے ملک کا بانی قائد اعظم محمد علی جناح تھا ۔

Categories

Comments are closed.