ایک آدمی بہت تنگ دست تھا اور اسی پریشانی کی حالت میں رات کو

ابو بکر بن الحاضنہ نے اپنے اتالیق ابی طالب سے نقل کیا ہے کہ وہ ایک رات بیٹھے ہوۓ کچھ لکھ رہے تھے انہوں نے بیان کیا کہ میں کچھ دنوں پہلے بہت تنگ دست تھا اور اس پریشانی کی حالت میں رات کو اپنے کام میں مشغول تھا کہ ایک بڑا چوہا نکلا اور اس نے

گھر میں دوڑ نا شروع کر دیا پھر دوسرا نکل آیا اور دونوں نے کھیلانا شروع کر دیا میرے سامنے ایک طشت تھا میں نے ان میں سے ایک پر اسے الٹ دیا تو دوسرا چوہ آیا اور طشت کے گرد پھرنے لگا میں خاموش دیکھ رہا تھا پھر وہ اپنے بل میں گھسا اور منہ میں ایک کھرا دینار لے کر نکلا اور اس کو میرے سامنے ڈال دیا ۔ میں لکھنے میں

مشغول رہا وہ ایک گھڑی تک بیٹھا انتظار کر تا رہا پھر واپس گیا اور دوسرا دینار لے کر آیا اور پھر بیٹھا رہا یہاں تک کہ چار یا پانچ دینار لے کر آیا پھر اس مرتبہ ہر بار سے زیادہ دیر تک بیٹھا رہا ۔ پھر واپس گیا اور ایک چڑے کی خالی تیھلی کھینچ کر لایا اور اس کو ان دیناروں کے اوپر رکھ دیا

میں سمجھ گیا کہ اب اس کے پاس کچھ باقی نہیں رہا تو میں نے طشت اٹھادیا دونوں چوہے بھاگ کر فور بل میں گھس گئے اور میں نے دینار لے لیے ۔۔۔۔

Categories

Comments are closed.