اگر اُلو کو ذبح کیا جائے تو کیا ہوگا؟

اس تحریر میں الو کے متعلق ایسی دلچسپ معلومات شیئر کررہے ہیں جسے پڑھ کر آپ ایک دفعہ تو ضرور حیران ہوجائیں گے الو رات کو اڑنے والا شکاری پرندہ ہے رات کو جب دوسرے پرندے سو رہے ہوتے ہیں تو یہ شکار ی پرندہ ان پر حملہ کرتا ہے چنانچہ اس وقت کوئی بھی پرندہ اس کے حملے کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا الو کی عجیب و غریب عادت یہ ہے کہ یہ پرندوں کے گھونسلے میں گھس کران کو یا ان کے بچوں یا ا نڈوں کو نہیں کھاتا بلکہ یہ انہیں گھونسلے سے باہر نکال کر کھاتا ہے الو کی خوراک میں چھوٹے جانور پرندے حشرات اور رینگنے والے جاندار شامل ہیں الو کی کچھ اقسام مچھلی کا شکار بھی کرتےہیں کچھ بڑے الو چھوٹے الوؤں کا شکار بھی کرتے ہیں

الو چھٹے شکار کو پورا نگل جاتا ہے اور بڑے شکار کو ٹکڑے کر کے نگلتا ہے ناہضم ہونے والی اشیاء جیسے ہڈیاں بال اور پر وغیرہ پورے کا پورے ملغوبہ ٹھوس شکل میں اگل دیتا ہے ہر الو تنہائی پسند ہوتا ہے یہ فطرتا کووں کا دشمن ہوتا ہے اور کوے بے اسے سخت ناپسند کرتے ہیں بعض الو دن کے وقت اڑتے اور شکارکرتے ہیں چنانچہ دن میں جب دوسرے پرندے اس کو اکیلا دیکھ لیتے ہیں تو اسے مار ڈالتے ہیں یا اس کے پروں کو نوچ ڈالتے ہیں الوؤں کی دوسو سے زائد اقسام ہیں الو ایک دلچسپ اور پر اسرار پرندہ ہے جوساری رات جاگتا رہتا ہے رات کے وقت الو اپنے شکار کو بغیر دیکھے آواز کی مدد سے اس پر حملہ کرتا ہے الو کی قوت سماعت انسان سے دس گنا زیادہ ہوتی ہے الو کسی بھی جانب آواز سننے کے لئے اپنے کانوں کو گھما سکتا ہے یہ آواز کی سمت اور آنے والی آواز کے فاصلے کا تعین بھی کرسکتا ہے الو کی دیکھنے کی صلاحیت انسان سے آٹھ گنا زیادہوتی ہے ۔ برف کے اندر چھپے شکار کو باآسانی دیکھ لیتا ہے

الو جب شکار پر حملہ کرنے کے لئے اڑتا ہے تو اس کے پروں سے کوئی آواز سنائی نہیں دیتی اور یہ خصوصیت صرف الو میں پائی جاتی ہے کیونکہ اس کے پر بہت ہلکے اور ملائم ہوتے ہیں اسی وجہ سے اسے خاموش شکاری کہاجاتا ہے الو جب خطرہ محسوس کرتا ہے تو یہ مختلف قسم کی خوفناک آوازین نکالتا ہے کچھ الو گھوڑے جیسی آوازیں نکالتے ہیں الو اپنی گردن اور سر کو دوسو ستر ڈگری زاویے تک گھما سکتا ہے یعنی الو ایک جگہ بیٹھ کر چاروں جانب دیکھ سکتا ہے الو زیادہ تر گھنے پرانے درختوں دیہاتوں پرانی عمارتوں اور سنسان جگہ پر رہتا ہے یہ زمین سے تقریبا ستر فٹ کی اونچائی پر گھونسلہ بناتا ہے مادہ الو نر کی نسبت قدرے بڑی ہوتی ہے الوؤں کی مختلف اقسام مختلف تعداد میں انڈے دیتی ہیں ۔انڈوں کی تعداد ایک سے لے کر تیرہ تک بھی ہوسکتی ہے انڈے میں سے بچہ نکلنے سے ایک یا دو دن پہلے مادہ الو انڈے کو تھوڑا سا توڑ دیتی ہے خطرے کی صورت میں الو اپنے پروں کو کھول کر خوفناک شکل بنالیتے ہیں اس صورت میں جسم کے تمام بال کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ منظر بہت خوفناک دکھائی دیتا ہے

الو سب سے پہلے طاقتور بچوں کو کھانا کھلاتا ہے اور بعد میں کمزور بچوں کو کھانا کھلاتا ہے الو کی گردن میں چودہ ہڈیاں ہوتی ہیں جبکہ انسان کی گردن میں سات ہڈیاں ہوتی ہیں کچھ الو اپنی گردن کو تیزی سے اوپر نیچے دائیں بائیں البتہ الٹا بھی کرسکتے ہیں الو کے پنجے بہت مضبوط اور طاقتور ہوتے ہیں جن میں چار نوکیلی انگلیاں ہوتی ہیں دو انگلیاں آگے اور دو پیچھے کی جانب ہوتی ہیں ضرورت کے وقت یہ پچھلی دو انگلیوں میں سے ایک کو گھما کر آگے کی طرف کر سکتا ہے الو کی چونچ دیگر گوشت خور پرندوں کی طرح نوکیلی اور ٹیڑھی ہوتی ہے مگر پروں سے ڈھکی ہونے کی وجہ سے بہت چھوٹی دکھائی دیتی ہے الو اپنی آنکھوں کو گھمانے کی طاقت نہیں رکھتا اسی وجہ سے یہ زیادہ تر سامنے کی طرف دیکھتا رہتا ہے بڑے الوؤں کے سر کے اوپر چھوٹے چھوٹے پر ہوتے ہیں جو کانوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت میں وہ کان نہیں ہوتے الو کے کان نظر نہیں آتے کیونکہ اس کے کان بالوں کے گچھے میں چھپے ہوتے ہیں۔

ماہرین حیوانات نے لکھا ہے کہ الو دن میں اس لئے نہیں نکلتا کہ الو سمجھتا ہے کہ میری آنکھوں بہت خوبصورت معلوم ہوتی ہیں کہیں لوگوں کی نظریں نہ لگ جائیں اسی وجہ سے الو اپنے آپ کو تمام پرندوں میں سب سے زیادہ حسین سمجھتا ہے اس لئے یہ رات کو ہی نکلتاہے اور اس کی طبی خصوصیات میں لکھتے ہیں اگر کسی انسان وک لقوہ ہو اگر الو کا دل لقوہ شدہ جلد پر لگایا جائے تو لقوہ جلد ختم ہوجاتا ہے اگر کوئی الو کی چربی پگھلا کر سرمے کے طور پر استعمال کرے تو اسے رات کے وقت ہر چیز روشن نظر آئے گی الو کا گوشت کھانے سے انسان بے وقوف اور احمق ہوجاتا ہے الو کو اگر ذبح کیاجائے تو اس کی ایک آنکھ کھلی رہتی ہے اور دوسری آنکھ بند ہوجاتی ہے الو کے خون کو کسی تیل میں ملا کر سر میں لگانے سے تمام جوئیں مرجائیں گی ہندوستان میں کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں

کہ اگر رات کو سوتے وقت کسی عورت کے بائیں ہاتھ پر الو کا دل رکھ دیاجائے تو اس عورت نے دن میں جو کا م کئے ہوں گے وہ سب بتا دے گی اس کے علاوہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ الو کے ناخن بچے کے بدن پر باندھنے سے بچہ کو نظر نہیں لگتی اگر کسی کو باربار پیشاب آنے کی بیماری ہو اگر وہ الو کا پتہ کھالے تو یہ بیماری جلد ختم ہوجائے گی اگر کسی فالج کے مریض کو الو کی چربی کی مالش کی جائے تو یہ بیماری جلد ختم ہوجائے گی الو کی چربی کی مالش جوڑوں کے درد اور جسم کے ہر درد کو ختم کر دیتی ہے اگر کوئی بوڑھا انسان بدن کے اس خاص حصے پر الو کے پتے کی مالش کر لے تو وہ پھر سے جوان ہوجائے گا یعنی مردانہ طاقت ایکٹیویٹ ہوجائے گی الو کے پتے کو سرمے کے طور پر استعمال کرنے سے آنکھوں کا موتیا ختم ہوجاتا ہے یعنی آنکھوں کی یہ بیماری جلد ختم ہوجاتی ہے اور بینائی بڑھ جاتی ہے ۔

Categories

Comments are closed.