اپنی مالکن کے جسم پر مہنگے اور تنگ کپڑوں کو دیکھ کر کافی پریشان رہتا تھا

ج پھیکے سے مسجد میں ملاقات ہوئی کہنے لگا صاحب بھی آپ سے ضروری بات کرنی ہے , شام کو گھر آؤں گا , بھیکے نے بات کرنی ہو تو شام کا انتظار کون کرے ۔ میں نے کہا نہیں یار پھیکے ابھی میرے ساتھ چپل اور بتا کیا بات ہے ۔ گھر آ کر میں نے بخشو سے چاۓ لانے کو کہا اور پھر پھیکے سے مخاطب ہوا ! ہاں بھئی اب بتا کیا بات ہے کس لیے اتنابے چین ہے , پھیا کہنے لگا صاحب بی گھر

آنے میں دو دن رہ گئے تھے اور بیگم صاحبہ کا ڈرائیور چھٹی پر تھا ۔ بڑے صاحب نے مجھے ان کو بازار لے کر جانے کا کہہ دیا ۔ صاحب بی بیگم صاحبہ نے شاپنگ کرنی تھی خورے کہاں کہاں سے مہنگے مہنگے کپڑے لیے ۔ ایک ایک جوڑا ہزاروں کا تھا اور بیگم صاحبہ نے منٹوں میں لاکھوں کی شاپنگ کر لی ۔ میں نے پوچھا بیگم صاحبہ اتنے مہنگے لون کے جوڑے ان میں کیا سونا چاندی

لگا ہے تو وہ ہنس کر بولی سکھیکے تجھے نہیں پتا یہ ڈزنر ہیں ڈزنر ۔ ایک تو کھیکے کی معصوم شکل اور اوپر سے ڈئیزائنر کو ڈزنر کہنے کا بھیکے م انداز مجھے اس پر بے ساختہ پیار آ گیا ۔ پھیکا اب جانے کیا بتانے والا تھا جب سے میرے بھتیجے مدثر کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا ایک ایک لون کا جوڑا بیگم صاحبہ نے ہزاروں کا خریدا تھا , صاحب بی آخر تھا تو لون کا جوڑا ہی نا , سوچتا ہوں میری کار والی کا بھی

دل کر تاہو گا کہ ڈزنر جوڑا پہنے خورے کیوں صاحب بھی دل میں پھانس سی چھ گئی اس نے تو کبھی فرمائش ہی نہیں کی سادے سے لون کے تین جوڑوں میں ساری گرمیاں لنگھادیتی ہے ۔ میں نے کار آکر پوچھا کہ تیرادل نئی کر تاسوہنے سوہنے کپڑے لینے کا یہ جو ڈز نر ہوتے ہیں ۔ میرے پوچھنے پر وہ ہنس کر کہنے لگے گڈی کے انا جان لون جوں جوں دھل کر گھستی ہے نا پنڈے کو سکھ

دیتی ہے ۔ مجھے ایسی فضول سوچیں نہیں آتیں ۔ میں نے کہا پھر بھی بتا تو سہی اگر میں لا کر دوں تو تم پہنیں گی ناہ صاحب می جانتے ہیں اس نے کیا کہا ۔ کہنے گی گڈی کے ابا آ خر کو تو ا کو چٹا جوڑا ہی پہننا ہے ۔ وہ بھی خورے نصیب ہو نا ہے کہ نہیں ۔ اس خاکی پنڈے کو کیڑوں نے ہی تو کھانا ہے نا ۔ ڈزنر پہنے والوں کے پنڈے کو کیا کیڑے نہیں کھائیں گے ۔ تجھے کیا ہو گیا ہے گڈی کے

ابا تو جانتا ہے مجھے ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو میرے لئے ایک ڈزنر جو ڑالانے کی بجاۓ چار پانچ جوڑے لے کر غریبوں میں بانٹ دے میں خدا کو کیا منہ دکھاؤں گی گڈی کے اباجس دن میرے دیں کے سب غریبوں کے تن کیے کئے نااس دن میں بھی اپنے آپ کو ڈزنر جوڑے کا حقدار سمجھو گی ۔ صاحب بی بھیکے غریب کی اتنی امیر بیوی مجھے اپنا آپ اس کے سامنے حقیر لگنے

لگار صاحب بھی اس نے تو مجھے روا ای دیا ۔ اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے بھی اس نے اتنی صابر شاکر بیوی دی مجھے ۔ پھیکا روتا جا رہا تھا ۔ اب میں کیا بتاتا کہ اس کی گھر والی کی یہ بات سن کر کہ اس خاکی پنڈے کو تو کیڑوں نے ہی کھانا ہے مجھے اپنا چائنا کی دو گھوڑا بوسکی کا کر تا چیھنے لگا اور مجھے لگا کہ میرے بدن پر بے شمار کیڑے رینگ رہے ہیں ۔ پھیکا مجھ سے

دکھ سکھ کرنے آیا تھا اور ہمیشہ کی طرح مجھے پھر ایک نیا سبق دے گیا ۔ وہ ابھی بھی رو رہا تھا میں نے اسے دلاسا دیا اور گندھا تھپک کر کہا ہاں پھیکے تو ٹھیک کہتا ہے ۔ نیک اور قناعت پسند بیوی اللہ کی بڑی نعمت ہوتی ہے ۔ یار تھے تو خوش ہونا چاہیے , جلیا روتا کیوں ہے ۔ پھیا کہنے لگا صاحب بی اسی شام بیگم صاحبہ نے مجھے مالی کو بلانے اس کے کوارٹر بھیجاہ مالی

بابا کی بیٹی نے دروازہ کھولا , اس کے کندھے سے پلو سرک گیاہ صاحب بھی اس کی قمیض کندھے سے کچھٹی ہوئی تھی جسے چھپانے کے لئے وہ بار بار پلو کھینچی تھی ۔ پھیکا داڑھیں مار مار کر رو رہا تھا ۔ مجھے اس کے رونے کی وجہ اچھی طرح معلوم ہو گئی تھی , صاحب جی میں نے اپنی گھر والی کو بتایا تو اس نے اس دن لون کے دو کرتے مالیکی بیٹی کے لیے ی کر دے دیے ہم وے کے صاحب ل مالي مات طی کم صامی کے پینے کیب # موع

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *