اپنی سگی بہن کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہو چکا تھا مگر پچھلے کچھ عرصہ سے اس کی

سے سزائے موت سنائی جاچکی تھی مگر شاید اس کی روح پھانسی کے پھندے تک پہنچنے سے پہلے ہی جسم سے پرواز کر جاۓ گی اس پر اپنی سگی بہن کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہو چکا تھا مگر پچھلے کچھ عرصہ سے اس کی صحت بگڑ گئی تھی اور اس کا نچ پاناناممکن لگتا تھا اس کا نام وجاہت تھاوجاہت کے والد ملک اکرم صاحب گاؤں کے سب سے بڑے زمیندار اور پنجائیت کے سرپنچ بھی تھےوجاہت کی ماں گھر یلو خاتون تھیں وجاہت کی پیدائش کے بعد تقریبا پانچ سال بعد وجاہت کی بہن راشیہ پیداہوئی تھی

اور راشیہ کے بعد اکر م صاحب کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی رانیہ جب آٹھ سال کی تھی تو گردوں کے عارضے میں مبتلا ہو گئی اور علاج کے باوجود مرض بڑھتا گیا یہاں تک کہ نوبت ڈائلیس تک جا پہنچی اور آخر کار ڈاکٹر ز نے رانیہ کا گردہ ٹرانسپلانٹ کرنے کا کہہ دیابصورت دیگر رانبیر کازندہ رہنا ممکن نہیں تھارانیہ تقریباسات سال تیک گردوں کے اس جان لیوا مرض سے لڑتی رہی تھی اور اب کھیل آخری لمحات میں پہنچ گیا تھا جہاں گردہ ٹرانسپلانٹ ہونے کی صورت میں راشیہ اس مرض کو شکست دے دیتی بصورت دیگر مرض راشیہ کو ہرادیتا اور راشیہ اس دنیا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ دیتی رانیہ کے لئے گردہ ڈونیٹ کرنے والا ڈھونڈا جانے لگامگر وجاہت کی ضد تھی کہ وہ اپنی بہن کو اپنا گردہ ڈونیٹ کرے گا گو کہ اس بات پر وجاہت کے والدین راضی نہ تھے مگر وجاہت نے دھمکی دے ڈالی کہ اگر کسی اور کا گردہ ٹرانسپلانٹ ہونے کی صورت میں رانیہ کی موت ہوئی

تو میں بھی خود کشی کر لوں گا نہیں تورانیہ کو میرا گردہ ہی لگایا جاۓ وجاہت کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور وجاہت کے والدین مان گئے یوں وجاہت نے رانیہ کواپنا گردہ ڈونیٹ کر دیا اور دونوں بہن بھائی اپنی زندگی جینے لگے مگر وجاہت کو گردہ ڈونیٹ کرنے کے بعد آپریشن والی جگہ پر مسلسل در درہنے لگا جس کا ذکر اس نے بھی گھر میں نہ کیا کہ گھر والوں کو پریشانی نہ ہو راشیہ کی جب تکلیف دور ہو جاتی اور وہ نارمل زندگی گزارنے لگتی تو بہترین خوراک کھانے کی وجہ اس کی صحت دنوں میں بدل جاتی رانیرا ایک انتہائی خوبصورت اور جاذب نظر لڑکیبن جاتی ہے راشیہ کے والدین راشیہ کی شادی کا سوچ رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف رانیہ گاؤں کے ایک لڑکے ولید سے عشق لڑانے لگتی ہے ولید ایک انتہائی او باش اور گھٹیا قسم کا نوجوان ہوتا ہے اور رانیہ کو چکنی چپڑی باتوں سے آپنا گرویدہ کر لیتا ہے

ولید رانیہ کو مجبور کرتا ہے کہ اگر رانیہ سچی محبت ہے کرتی ہے تو اپنے گھر والوں سے شادی کی بات کرے رائیہ ولید کے کہنے پر گھر باتکرتی ہے مگر رانیہ کے گھر والے دلیل کے ساتھ رانیہ کی بات کو رد کر دیتے ہیں جب ولید کورانیہ کی زبانی انکار کا پتہ چلا تو ولید نے رانیہ کو کورٹ میرج پر آمادہ کر لیا راشیہ ولید کے ساتھ گھر سے چلی گئی رانیہ کے یوں چلے جانے پر رانیہ کی ماں صدمے سے مر گئی راشیہ کے والد صاحب اور بھائی نے زمانے کا سامنا کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے راشیہ کے والد صاحب ایک بار پنجائیت میں بیٹھےتھے اور فیصلہ سنایا تو جس پارٹی کے خلاف فیصلہ تھان میں سے ایک جوان اٹھا اور کہا تمہاری بیٹی نے تمہارا فیصلہ نہیں مانا تھا تو ہم کیامانے گے رانیہ کے والد صاحب نے اتنے لوگوں میں دیا گیا طعنہ سننے کے بعد اسی دن گھر جاکر خودکشی کر لی باپ کی موت کے بعد وجاہت نے گاؤں چھوڑ دیا اور ایک غریب لڑکی سے نکاح کر لیا مگر جب رانیہ کے گھر کی طرف سے کوئی سخت جواب ولید کو نہ ملا ےتو ولید کا حوصلہ بڑھا اور وہ وجاہت کو فون کر کے رائیہ کے متعلق بیہودہ باتیں کرنے لگاوجاہت نے ہر ممکن ولید کو اگنور کرنے کی کوشش کی مگر ولید کی اوچھی حرکات بڑھتی گئیں

یہاں تک ولید نے رانیہ سے نکاح تک نہ کیا اور رانیہ نے ولید سے بن نکاح کے فقط محبت کے نام پر ایک بچے کو جنم دیا اور ولید نے وجاہت کو کال پر مبار کباد دی کہ تمہاری بہن بن نکاح کے ماں بن چکی ہے وجاہتکہتا ہے اتنی بڑی بات در گزر کر نامیرے لئے ممکن نہ تھالہذا میں نے ولید اور رانیہ کو ڈھونڈ نکالا مگر جب ان دونوں کو قتل کرنے پہنچا تو ولید وہاں نہیں تھا میں نے راشیہ کو بچی سمیت قتل کر دیا میں نے گرفتاری دے دی جب میں گرفتار ہوا تو میری بیوی کے پیٹ میں میر ابچہ تھاجو شاید اب دنیا میں آنے کے بعد بولتا اور چلتا بھی ہو گا مگر میں نے بیوی کو قسم دی کہ کبھی بچے کو میرے جرم کےبارے میں نہ بتانا میں نے ایک گردہ بہن کو ڈونیٹ کر دیا اور پھر وہ ہی بہن میرے لئیے گالی بن گئی میر ادوسرا گردہ نکارہ ہو چکا ہے آج نہیں تو کل میں مر جاؤں گا میں واحد بد نصیب باپ ہوں جو اپنی اولاد کو جیتے جی نہیں دیکھ پاؤں گا میں مر کر بھی اپنے بیٹے سامنے نہیں جاناچاہتا میں نے وصیت کی ہے کہ میری لاش ایدھی کے حوالے کر دی جاۓ اور میری زندگی میں فقط ایک ہی کاش باقیہے کہ کاش میں نے بھی راشیہ کو گردہ ڈونیٹ کر کے نہ بچایا ہوتا

تو شاید آج میں اور میرے والدین ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہوتے میں تمام بہنوں اور بیٹیوں سے بستر مرگ پر لیٹے ہوۓ التجا کرتاہوں خدارا اپنے باپ اور بھائی کامان بنیں اپنے باپ اور بھائی کے لئیے گالی نہ بنیں جیسے رانیہ میرے لئیے گالی بن گئی میں آپ کو خداکاواسطہ دیتا ہوں کہ محبت کے نام پر خونی رشتوں کی عزتپامال نہ کریں یادر کھیں آپ محبت کے نام پر گھر والوں کو چھوڑ دیتی ہیں مگر لوگوں کی باتیں جیتے جی آپ کے گھر والوں کو مار دیتی ہیں میں وجاہت نے بہن کی جان لی اس بات کا مجھے دکھ ضرور ہے مگر پچھتاوا نہیں کیونکہ میری بہن میرے لئیے گالی بن چکی تھی اتنی بات کے بعد وجاہت رونے لگا تھا اور گردے کے شدید درد کی ٹیسیں ایک بار پھر اٹھنے لگیں تھیں

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *