انیلہ نے بڑے فخر سے اپنی دوست کو بتاتے ہوۓ

یں پچھلے چھ ماہ سے اپنے شوہر کو اپنے قریب نہیں آنے دے رہی ۔ انیلہ نے بڑے فخر سے اپنی دوست کو بتاتے ہوۓ کہا ۔ وہ میری منتیں کرتے ہیں مجھے اپنے پاس بلا تے ھیں مگر میں حقارت سے ان کو دھتکار دیتی ہوں , دوست پوچھنے لگی !

اچھا کیا وہ تم سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے اوہو ان کی جرات ہے جو مجھ سے اونچی آواز میں بات بھی کریں , جینا حرام نہ کر دوں میں ان کا ۔ آج انیلا بستر مرگ پر پڑی ہے موت بھی اس کو قبول نہیں کر رہی ، اس کو کینسر ہو گیا ہے ، جس جسم کو وہ شوہر سے دور رکھتی تھی آج اس جسم میں جگہ .جگہ گلٹیاں بنی ہیں جو گندے مواد سے بھرتی ہیں اور پھر پھٹ جاتی ہیں , شدید بدبو اور تکلیف سے چیختی انیلا موت کی بھیک مانگتی نظر آتی ہے ، اس کے شوہر نے بھی اس کو معاف کر دیا ہے ہے اور وہی اس کی دیکھ بھال کرتا ہے ۔ مگر شاید قدرت اس کو نشان عبرت بنانا چاہتی ہے ۔

یہ لاہور کا سچا واقعہ ہے ۔ جب مرد اور عورت کا نکاح کرتے ہیں تو وہ صرف دو افراد کا ملاپ نہیں ہوتا اس میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بنا کر اس بات کا عہد کیا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے دکھ تکلیف اور غمی خوشی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے اور اللہ تعالی کے احکامات کو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کی روشنی میں پورا کریں گے ۔ مگر ہمارے معاشرے میں ہوتا اس کے برعکس ہے ۔ یہاں ایک دوسرے پر فتح حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کی جاتی ہے ۔ مرد چاہتا ہے کہ عورت اس کے تابع ہو اور عورت چاہتی ہے کہ صرف میرا راج ہو ، اللہ تعالی کے احکامات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایات کو یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے ۔ وہ عورت جس کو شوہر کے بلانے پر نماز تک چھوڑ دینے کا حکم ہے وہ شوہر کے بلانے پر ہونہاں کہہ کر سو جاتی ہے

اور بعد میں فخر محسوس کرتی ہے تو ایسی عورت پر فرشتے لعنت بھیجتے ہیں ۔ ساری رات مسلسل بغیر کسی شرعی عذر کے دوری اختیار کرنا اللہ تعالیکی ناراضگی کا باعث بنتی ہے ۔ اور اس دوران اگر شوہر کوئی گناہ کرتا ہے تو اس میں بھی برابر کی حصہ داری بنتی ہے ۔ اللہ تعالی ایسی عورتوں پر دنیا میں ہی عذاب نازل فرما دیتا ہے ۔ اللہ تعالی ہماری عورتوں کو دین کی سمجھ عطا فرماۓ آمین ، کیونکہ نکاح دین کو مکمل کرتا ہے شیطان کو غرقکرتا ہے نکاح اور میاں بیوی کی محبت شیطان کو آگ لگا دیتی ہے ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *