ام المو منین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ : یمن میں گیارہ عورتیں ایک ساتھ بیٹھی تھی

ام المو منین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے روایت کی کہ ( یمن کے کسی علاقے میں ) عورتوں کی ایک نشست ہوئی ان عورتوں کی تعداد گیارہ تھی جس طرح کہ عورتوں کی عادت ہوتی ہے وہ بیٹھ کر ایک دوسرے کی با تیں زیادہ دلچسپی سے کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنی مجلس میں اپنے اپنے خاوندوں کی خو بیاں اور عادات ذکر کیں اور کمال فصاحت و بلاغت سے اوصاف بیان کیے لیکن زیادہ حیرت تو روایت کرنے والی سیدہ ام المو منین کی ہے جنہوں نے انہیں کمال بلاغت سے بیان کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس بلیغ کلام کو سن کر اپنا شمار کن میں کیا

ترجمہ میں بلا غت بر قرار رکھنے کی کوشش کی جا ئے گی عائشہ ؓ سے انہوں نے کہا کہ گیارہ عورتوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ مجلس میں وہ اپنے اپنے خاوند کا صحیح صحیح حال بیان کر یں کوئی بات نہ چھپا ئیں چنانچہ پہلی عورت بو لی میرے خاوند کی مثال ایسی ہے جیسے دبلے اونٹ کا گ و ش ت جو پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو نہ تو وہاں تک جانے کا راستہ صاف ہے کہ آسانی سے چڑھ کر اس کو کوئی لے آوے اور نہ وہ گ و ش ت ہی ایسا موٹا تازہ ہے جسے لا نے کے لیے اس پہاڑ پرچڑھنے کی تکلیف گوارا کر ے دوسری عورت( عمر ہ بنت عمر و تمیمی نامی) کہنے لگی میں اپنے خاوند کا حال بیان کروں تو ایک تاڑ کا تاڑ ( لمبا تڑ نگا) ہے اگر اس کے عیب بیان کروں تو ط ل ا ق تیار ہے اگر خاموش رہوں

تو ادھر لٹکی رہوں۔ چوتھی عورت( مہد و بنت ابی ہر ومہ ) کہنے لگی کہ میرا خاوند ملک تہا مہ کی رات کی طرح معتدل نہ زیادہ گرم نہ بہت ٹھنڈ نہ اس سے مجھ کو خوف ہے نہ اکتا ہٹ ہے پانچوں عورت( کبشہ نامی) کہنے لگی کہ میرا خاوند ایسا ہے کہ گھر میں آتا ہے تو وہ ایک چیتا ہے اور جب با ہر نکلتا ہے تو شیر ( بہاد ) کی طرح ہے۔ جو چیز گھر میں چھوڑ کر جا تا ہے اس کے بارے میں پوچھتا ہی نہیں اتنا بے پرواہ ہے جو آج کما یا اسے کل کے لیے اٹھا کر رکھتا ہی نہیں اتنا سخی ہے۔ چھٹی عورت ( ہند نامی) کہنے لگی کہ میرا خاوند جب کھانے پر آتا ہے تو سب کچھ چٹ کر جا تا ہے۔ اور جب پینے پر آتا ہے تو ایک بو ند بھی باقی نہیں چھوڑتا اور جب لیٹتا ہے تو تنہا ہی اپنے اوپر کپڑا لپیٹ لیتا ہے اور لاگ پڑ کر سو جا تا ہے میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ بھی نہیں ڈالتا

کہ کبھی میرا دکھ درد کچھ تو معلوم کر ے۔ ساتویں عورت میرا خاوند تو جا ہل یا مست ہے ملتے وقت اپنا سینہ میرے سینے سے اوندھا پڑ جا تا ہے دنیا میں جتنے عیب لوگوں میں ایک ایک کر کے جمع ہیں وہ سب اس کی ذات میں جمع ہیں۔ سر پھوڑ ڈا لے یا ہاتھ توڑ ڈالے یا دونوں کام کر ڈالے آٹھو یں عورت کہنے لگی میرا خاوند چھونے میں خر گوش کی طرح نرم ہے اور خو شبو میں سو نگھو تو زعفران جیسا خوشبو دار ہے نو یں عورت ( نام نا معلوم) کہنے لگی کہ میرے خاوند کا گھر بہت اونچا اور بلند ہے وہ قد آور بہادر ہے اس کے یہاں کھا نا اس قدر پکتا ہے کہ راکھ کے ڈھیر کے ڈھیر جمع ہیں لوگ جہاں صلاح و مشورہ کے لیے بیٹھتے ہیں وہاں سے اس کا گھر بہت نزدیک ہے دسویں عورت کہنے لگی میرے خاوند کا کیا پوچھنا جا ئیداد والا ہے

جا ئیداد بھی کیسی بڑی جائیداد دیسی گھی کسی کے پاس نہیں ہو سکتی بہت سارے اونٹ جو جا بجا اس کے گھر کے پاس جٹے رہتے ہیں اور جنگل میں چرنے کم جاتے ہیں جہاں ان اونٹوں نے باجے کی آواز سنی بس ان کو اپنے ذ ب ح ہونے کا یقین ہو گیا گیار ھو یں عورت کہنے لگی میرا خاوند ابو زرع ہے میرے کانوں کو زیوروں سے بو جھل کر دیا ہے اور میرے دونوں با ز و چربی سے پھلا دئیے ہیں مجھے خوب کھلا کر موٹا کر دیا ہے کہ میں بھی اپنے تئیں خوب موٹی سمجھنے لگی ہوں۔

جس کے دو بچے چیتوں کی طرح اس کی کمر کے تلے دو اناروں سے کھیل رہے تھے ابو زرعہ نے مجھے ط ل ا ق دے کر ا س عورت سے نکاح کر لیا اس کے بعد میں نے ایک اور شریف سردار سے نکاح کر لیا جو گھوڑے کا اچھا سوار عمدہ ن ی ز ہ باز ہے اس نے بھی مجھ کو بہت سے جانور دے د ئیے ہیں اور ہر قسم کے اسباب میں سے ایک ایک جوڑا دیا ہوا ہے اور مجھ سے کہا کرتا ہے کہ ام زرع ! خوب کھا پی، اپنے عزیز و اقرباء کو بھی خوب کھلا پلا تیرے لیے عام اجازت ہے۔ مگر یہ سب کچھ بھی جو میں نے تجھ کو دیا ہوا ہے اگر اکٹھا کروں تو تیرے پہلے خاوند ابو زرعہ نے جو تجھ کو دیا تھا اس میں کا ایک چھوٹا بر تن بھی نہ بھرے۔

Categories

Comments are closed.