امی مجھے سر درد ہو رہا ہے مناہل کی آنکھوں میں آنسو تھے ماں نے مناہل کو دیکھا

امی مجھے سر درد ہو رہا ہے مناہل کی آنکھوں میں آنسو تھے ماں نے مناہل کو دیکھا کہنے لگیں مناہل تم تھوڑا سا بھی درد برداشت نہیں کر سکتی ہمت کیا کرو تھوڑی سی سر درد سے بھی رونے لگ جاتی ہو امی مجھ سے نہیں ہوتا درد برداشت ماں نے درد کی ٹیبلٹ دی کچھ آرام ملا مناہل ناولز پڑھنے والی لڑکی ڈرامے دیکھ کر وہ پسندیدہ ہیرو یا ہیروئین کے مسکرانے سے مسکراتی ان کے اداس ہونے سے اداس ہوتی اتنی معصوم سی تھی ایک ڈرامے میں ہیرو مر گیا اور رو رو کر اپنابرا حال کر لیا مناہل نے وہ بلکل کسی گلاب کی طرح تھی کالج جاتی تھی

لیکن پڑھائی چھوڑ دی پڑھنے کا شوق نہیں تھا اتنا چار بہنیں تھیں دو بھائی تھے بابا مناہل کے بیرون ملک تھے گھر کے کام کرتے ہوئے تو جان نکل جاتی تھی اس کی اس کو لاکھ بار بھی بول لو پھر بھی مناہل کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتی تھی ہاں اگر کبھی جھاڑو لگا دیا تو بس چار دن بیڈ سے ہلنا ہی نہیں تھکن ہو جاتی ماں تو بس ڈانٹتی ہی رہتی تھی مناہل شرم کیا کرو کام کیا کرو گھر کا مناہل بس ایک ہی جواب دیتی مجھ سے نہیں ہوتا میں نہیں کر سکتی کام ماں کہتی جب بیاہ کر جاو گی نہ پھر تو کرنا پڑے گا نا مناہل کہہ دیتی ملازم رکھ لوں گی کام نہ ہوتے مجھ سے ایک دن مناہل بازار میں شاپنگ کرنے گئ وہاں ایک بہت خوبصورت لڑکا جو مناہل کی طرف بار بار دیکھ رہا تھا مناہل شرمندہ ہو رہی تھی وہ لڑکا ایک نظر سے مناہل کو دیکھے جا رہا تھا دیکھنے میں خوبصورت تھا کار کے پاس کھڑا تھا یوں لگتا تھا وہ کار اسی کی ہو مناہل نے نظریں چرانے کی کوشش کی لیکن ایک اس لڑکے کی نگاہیں شاید مناہل سے کچھ کہہ رہی تھیں مناہل اگنور کر کے گزر گئی کچھ دن گزرے مناہل پھر کسی کام سے بازار گئی اس بار پھر وہی لڑکا مناہل کے سامنے آیا مناہل کو بہت غصہ آیا لیکن اس لڑکے نے ایک کاغذ کا ٹکڑا بہت چالاکی سے مناہل کے ہاتھ میں تھما دیا مناہل کی تو سانس رکنے لگی تھی کسی اجنبی نے پہلی بار اس کے ہاتھ کو یوں چھوا تھا مناہل کا دل چاہا اس لڑکے کے منہ پہ تھپڑ ماروں لیکن خاموش رہی وہ کاغذ پھینکا نہیں گھر آئی دیکھا تو اس کاغذ پہ لکھا تھا آپ مجھے بہت پیاری لگتی ہیں قسم خدا کی جب سے آپ کو دیکھا میرا سکون دل کا قرار سب کھو چکا ہے

میری زندگی آپ کی ہاں کی منتظر ہے میرا نمبر ہے یہ ااپ سے محبت کرتا ہوں مجھے واٹس ایپ میسج کرنا پلیز پلیز مناہل حیران تھی پہلے وی کاغذ پ۔ھاڑ کر پھینکنے لگی پھر اس کو اپنے بیگ میں رکھ لیا کچھ دن گزرے دل کی خیال آیا کیوں نا اس لڑکے سے بات کروں اس کا نمبر سیو کیا دیکھا اس کی واٹس ایپ پہ اس کی تصویر لگی ہوئی تھی بہت پیار لگ رہا تھا تصویر میں مناہل نے نہ جانے کتنی بار ہیلو لکھا اور کتنی بار مٹایا ہر بار ہمت ٹوٹ جاتی میسج سینڈ کرتے ہوئے ہمت کر کے ہیلو سینڈ کر دیا پلک جھپکتے ہی ریپلائی آ گیا کون مناہل نے کوئی ریپلائی نہ کیا دو دن تک ریپلائی نہ کیا پھر ہیلو لکھا تو کال آگئی واٹس ایپ پہ مناہل نے کہا کاٹ دی اسے کہا چیٹ پہ بات کریں وہ بات کرنے کے انداز سے سمجھ گیا یہ وہی ہے جسے میں نے نمبر دیا تھا جھٹ سے بولا مجھے یقیں تھا آپ ایس ایم ایس ضرور کریں گی مجھے میرا دل کہتا تھا آپ ضرور مجھے سمجھیں گی مناہل حیران تھی اس نے کیسے پہچان لیا مجھے اس لڑکے نے اپنے تصویر بیجھی کہنے لگا میرا نام ارمان ہے میں یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں مناہل نے پوچھا آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے ارمان نے کہا آپ کو اپنا بنانا چاہتا ہوں مناہل نے ہر لڑکا یہی ڈائلاگ مارتا ہے ارمان مسکرا کر کہنے لگا میں سب جیسا نہیں ہوں میں سب سے الگ ہوں مناہل نے لیکن میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی ارمان نے کہا مناہل آپ کیوں بات نہیں کرنا چاہتی میں آپ کو کبھی کچھ غلط نہیں بولوں گا آپ جیسا کہو گی ویسا کروں گا مناہل نے کہا ٹھیک ہے پھر مجھے دوبارہ میسج نہ کرنا ارمان نے کہا مناہل اس کے سوا جو کہو کروں گا تم سے دور اب نہیں رہ سکوں گا

مناہل کو یقین نہی ہو رہا تھا ارمان اتنا پیار کیسے کر سکتا ہے مناہل نے کوئی ریپلائی نہ کیا رات کے 12 بجے ارمان کا میسج آیا مناہل مجھے نیند نہی آ رہی مناہل نے میسج دیکھا کیوں نہیں آ رہی نیند ارمان نے آہ بھری تمہارا چہرہ مجھے سونے نہیں دے رہا تمہاری پیاری سی آنکھیں مجھے ستا رہی ہیں تمہارا چہرہ مجھے بے چین کر رہا ہے مناہل نے کہا باتیں بہت اچھی بنا لیتے ہو ارمان نے کہا بس محبت میں باتیں اچھی ہی ہوتی ہیں مناہل نے کہا تم لڑکے دھوکے باز ہوتے ہو ارمان نے کہا مناہل میں کافر ہو جاوں اگر تم کو دھوکہ دوں تو مناہل میرے دل کو سمجھو تو سہی میں زور زور سے آواز دے رہا ہوں تم کو مناہل قسم کھا کر کہتا ہوں میں تمہارے بنا اب نہیں جی سکتا میں مر جاوں گا اب مناہل نے ہنستے ہوئے کہا بس کرو کیوں اتنے جھوٹ بول رہے ہو ارمان نے کہا مناہل بات سنیں ایک منٹ ویڈیو کال کریں آپ اپنا چہرہ نہ دکھائیں بس مجھے دیکھیں مناہل نے پہلے انکار کیا لیکن ارمان کی ضد پہ ویڈیو کال کی ارمان نے ایک بلیڈ لیا اپنے بازو پہ مناہل کا نام لکھا مناہل دیکھو اتنی محبت کرتا ہوں تم سے اب بھی یقین نہیں مجھ پہ مناہل نے کہا ارمان پاگل ہو یہ کیا کر رہے ہو ارمان نے کہا مناہل میری زندگی اب تمہاری ہی تو ہے تمہارے لیئے مر بھی سکتا ہوں مناہل کا دل پگل گیا ارمان سچ میں پیار کرتے ہو مجھ سے ارمان نے روتے ہوئے کہا مناہل تمہارے ساتھ تو میرے دونوں جہاں ہیں

تمہارے لیئے جیوں گا تمہارے لیئے مروں گا اب مناہل کو ارمان پہ یقیں ہونے لگا محبت کا سفر شروع ہو گیا ارمان اور مناہل میں باتوں کا سفر شروع ہوا مناہل نے کہا اپنی فیملی کی تصوریں دکھاو کون کون آپ کی فیملی میں ارمان نے تصوریں سینڈ کی یہ میری بہن یہ میری ماں ہے میرےe ابو باہر ہوتے ہیں ارمان نے کہا مناہل شادی کے بعد آپ کو کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دوں گا مناہل مسکراتے ہوئے شادی کے بعد مجھ سے گھر کے کام کرنے کا نہ کہنا نہ مجھ سے کام ہوتے نہ میں کروں گی عادل نے کہا میری جان تم کو کام کرنے کیا ضرورت ہے یم نوکر رکھ لیں گے مناہل ایک خواب دیکھنے لگی ارمان کے ساتھ مناہل کو یقین ہو گیا تھا ارمان کی محبت پہ اگر کبھی مناہل ارمانکے میسج کا لیٹ ریپلائی کرتی تو ارمان کال پہ کال کرتا مناہل کہا ہو مناہل مجھے فکر ہو رہی مناہل جواب دو مناہل میں مر جاوں گا جواب دو جلدی مناہل دیکھتی ارمان 5 منٹ بات نہ کروں تو اداس ہو جاتا مناہل کہنے لگی ارمان 5 منٹ بھی صبر نہیں ہوتا ارمان حسرت بھری آواز میں کہنے لگا مناہل تمہارے بنا 5 منٹ 5 سال کے برابر لگتے ہیں تمہارے بنا ایک سانس تک نہیں لے سکتا اب میں مناہل وعدہ کرتا ہوں تم سے کبھی تم کو ایک پل خود سے جدا نہ کروں گا مناہل اس کے وعدوں پہ خواب سجانے لگی ارمان سچ میں اتنا پیار کرتے ہو مجھ سے ارمان نے کہا مناہل اتنا پیار کرتا ہوں
جتنا شاہد کبھی کسی نے کسی سے کیا ہو مناہل بہت خوش رہتی تھی دن رات محبت بھری باتیں وعدے قسمیں خواب سب کچھ کیا جا رہا تھا ایک دوسرے کے ساتھ مناہل نے ایک دن کہا عادل شادی کے بعد بدل تو نا جاو گے نا ارمان نے کہا کون بد بخت بدلے گا میری جان ایک دن ارمان نے کہا مناہل اپنی تصویر بیجھو نا مناہل نے بنائی نہیں کوئی تصویر ارمان نے کہا بناو تصویر مجھے تم کو دیکھنا ہے مناہل نے تصویر بنائی عادل دیکھ کر تعریفیں کرنے لگا مناہل بہت خوش تھی ارمان نے کہا مناہل ایک تصویر سامنے سے بال ہٹا کر بناو نا مناہل نے کہا عادل میں ایسی کوئی تصویر نہیں بناوں گی ارمان نے ضد کی مناہل مان گئی ارمان کی مرضی کے مطابق تصویر بنا کر سینڈ کی عادل بہت خوش تھا مناہل نے کہا ارمان میں آج کے بعد ایسی کوئی تصویر نہیں بناوں گئ ارمان مسکراتے ہوئے کہنے لگا ارے مناہل تم میری ہونے والی بیوی ہو کیوں ڈرتی ہو مناہل نے کہا شادی کے بعد جو چاہے کرنا نہیں روکوں گی لیکن اب نہیں ارمان نے کہا اس کا مطلب تم کو یقییین نہیں مجھ پہ مناہل نے کہا بات یقین کی نہیں ہے ارمان قسمت سے ڈر لگتا ہے ارمان نے کیا قسمت خود بنانی پڑتی ہے ارمان نے مناہل کو باتوں کی آئینے سے یقین کی دہلیز تک لے آیا ایک دن بارش ہو رہی تھی تیز ہوا چل رہی تھی رات کے 12 بج رہے تھے مناہل نے کہا ارمان امی اور بھائی نانی کے گھر گئے ہیں نانی بیمار ہے ہم۔بہنیں اکیلی ہیں گھر میں اور چھوٹا بھائی ہے ارمان نے کہا میرا دل کر رہا تم سے ملنے کا مناہل مناہل نے کہا دل کو قابو میں رکھو ارمان نے ضد کی میں آنے لگا ہوں دروازہ کھولو مناہل نے بہت منع کیا لیکن ارمان آ گیا

بارش بہت تیز تھی مناہل کے نہ چاہتے ہوئے بھی ارمان آ گیا محبت میں جب کسی پہ اعتبار حد سے گزر جائے تو محبت کا انجام ایک وحشت ناک منزل کا حقدار ہوتا ہے مناہل نے دروازہ کھولا اندھیرے میں سب سو رہے تھے بجلی چمک رہی تھی طوفانی بارش تھی ارمان نے مناہل کا ہاتھ پکڑا اور کہا مناہل میری جان دیکھو نا آج موسم کتنا پیارا دل کر رہا تم کو سینے سے لگا لوں مناہل کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھاارمان کچھ نہیں بس تم جلدی سے جاو یہاں سے ارمان نے ہاتھ کھینچا مناہل کو سینے سے لگا لیا مناہل کا دل جیسے رک گیا تھا اب وہ لمحہ تھا یہاں آجکل محبت سچی ثابت ہوتی ہے مناہل کا وہ جسم جو قرآن پاک کے غلاف کی طرح جو پاک تھا اس جسم کو محبت داغدار کر رہی تھی مناہل کے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ مناہل کے جسم کو ہوس کا نشانہ بناتا رہا مناہل ڈر گئی مناہل نے دھکا دیا عادل کو کہا عادل چلے جاو اب عادل بہت خوش تھا منزل کی پہلی سیڑھی پار کر چکا تھا مناہل پریشان تھی بہت اس کا جسم کانپ رہا تھا وہ ساری رات نہ سو سکی ارمان بہت خوش تھا صبح ارمان نے کال کی مناہل کیا بات ہے جان اداس سی ہو مناہل نے کہا کچھ نہیں ارمان بس ایسے ہی ارمان مسکراتے ہوئے کہنے لگا مناہل بس اب میری پڑھائی پوری ہوتے ہی ہم شادی کر لیں گے مناہل نے کہا عادل مجھے چھوڑ کر نہ جانا اب میری جان میں تمہارے بنا مر جاوں گئ ارمان نے اسے میری مناہل تم رو رہی ہو نہیں چھوڑتا تم کو مناہل نے کہا ارمان مجھے تم نے چھوا ہے اب ڈر لگتا ہے تم بچھڑنے سےبہت خواب ہیں تمہارے ساتھ میرے میں اپنی ماں سے بات کروں گی

تمہارے بارے ارمان نے کہا نہیں ابھی نہیں کرنی بات کسی سے وقت آنے پہ کریں گے ایک رات ارمان نے کہا مناہل اپنی ہاٹ سی تصویر تو بیجھو مناہل نے کہا کیا مطلب ارمان نے کہا مطلب یہ کے اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنا چاہتا ہوں ہاٹ سا مناہل نے کہا ارمان نہیں بلکل بھی نہیں ارمان نے مجبور کیا پیار کے واسطے وعدوں کی زنجیریں مناہل بہ چاہتے ہوئے اس نے اپنی بر ہ نہ تصوریں کلک کر کے ارمان کو بیجھ دیں جانتے ہو عورت جب محبت کرتی ہے تو وہ اپنا سب کچھ نچھاور کر دیتی ہے صرف محبت کے دو لفظوں پہ مرد عورت کی اس محبت ایک بھیڑئے کی طرح فائدہ اٹھاتا ہے ارمان نے واٹس ایپ میں گروپ میں تصویر اپ لوڈ کی مناہل کی بر ہ نہ فوٹو سب دوستوں نے کہا ارے واہ ارمان کمال کر دیا سالی کو اتار لیا آئینے میں واہ کیا مال ہے یار ایک نے کہا ہم ایک لاکھ روپے میں ڈارک ویب پہ مناہل کی تصوریں بیچ سکتے ہیں ڈارک ویب کیا ہے آپ گوگل پہ دیکھ سکتے ہیں لیکن پلیز اس میں داخل نہ ہوں جرم ہے خیر وہ پردہ دار بیٹی مناہل ارمان کے ساتھ شادی کے خواب دیکھ رہی تھی کے ایک دن ارمان نے کہا میں نے امی سے شادی کی بات کر لی ہے بس ابا گھر آجائیں تو رشتہ لیکر آئیں گے مناہل بہت خوش تھی ارمان نے کہا مناہل ملنا ہے تم سے مناہل نے منع عو کیا لیکن ارمان ہمیشہ کی طرح بضد رہا مناہل کو نیند کی گولیاں دی

اور کہا کھانے میں ملا دینا اور پھر مناہل کے جسم کے ساتھ خوب کھیلا مناہل کو داغدار کیا اور چلا گیا بس مناہل پھر ارمان کو کال کرتی تو ارمان اگنور کرنے لگا مناہل پوچھتی ارمان میری جان آپ بات اب بہت کم کم کرتے ہیں ارمان بات ٹالتے ہوئے کہتا مناہل میں امتحاں کی تیاری کر رہا ہوں اسلیئے بس مناہل گھنٹوں ارمان کا انتظار کرتی لیکن ارمان مناہل سے بات نہ کرتا مناہل اداس ہو جاتی مناہل نے ایک دن غصے سے کہا ارمان کیوں کر رہے ہو ایسا کیوں بات نہیں کرتے ارمان نے کہا مناہل میں گھر کے کاموں میں مصروف ہوتا ہوں بات پھر سے ٹال دی مناہل کو بہت تیز بخار تھا مناہل ارمان کو یاد کر کے رونے لگی ارمان کو کال کرتی رہی ارمان اگنور کرتا رہا مناہل کا دل پھٹ رہا تھا ارمان کو میسج کیا ارمان میں بہت تکلیف میں ہوں بات کرو نا ارمان نے میسج دیکھ کر بھی ریپلائی نہیں کیا پھر ایک دن مناہل نے کہا ارمان اپنی امی کو بیجھو شادی کی بات کرنے کے لیئے ارمان نے کہا مناہل سچ بتاوں تو میرے نہ تو امی مان رہی اب نہ ابو میں ان کے خلاف نہیں جا سکتا مناہل مجھے معاف کر دو مناہل نے چ۔یختے ہوئے کہا

ارمان ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو میری جان میں مر جاوں گی تمہارے بنا ارمان نے کہا مناہل اچھا ہو گا ہم اب بات نہ کیا کریں مناہل چلاتے ہوئے کہا ارمان بس محبت پوری ہو گئی تمہاری کھیل لیا میرے جسم سے کھیل لیا میری روح سے کھیل لیا میرے جذبات سے ا رمان کر دیا نہ برباد مجھے گرا دیا نہ مجھے میری نظروں میں بنا دیا مجھے پاکدامن سے ایک ہیرا منڈی کی وحشیہ کی طرح کیا فرق رہ گیا مجھ میں اور طوائف میں وہ پیسوں کے لیئے بستر پہ آ جاتی اور مجھے تم نے محبت کے نام پہ استعمال کر لیا ارمان نے کہا مناہل تم تھی ہی بدکرادار لڑکی تم تو تھی ہی گندی لڑکی مجھ پہ الزام لگا رہی ہو خود کو دیکھو پہلے شریف اور عزت دار لڑکیاں محبت نہیں کیا کرتیں تم تو اپنے ماں کو دھوکہ دے کر مجھ سے ملتی رہی تو مجھ سے وفا کیسے کرو گی مناہل نے چ۔یختے ہوئے کہا ارمان بس کرو اللہ کے سامنے بھی پیش ہو گے کہاں ہیں تمہارے وعدے تمہارے وہ بڑے بڑے دعوے ارمان کتنی آسانی سے تم نے مجھے بدکرادار کہہ دیا نا ہاں میں ہوں بدکرادار ہاں میں ہوں گندی لڑکی ہاں میں ہوں ایک بد چلن لیکن اللہ تم کو برباد کرے گا

یہ یاد رکھنا ارمان نے فون کاٹ دیا نمبر بدل لیا مناہل سے کھیل کر ایک مرد پاک رہا مناہل راتوں کو خاموش آواز میں آج بھی روتی ہے مناہل جب باپ کی آنکھوں میں دیکھتی ہے تو وہ تڑپ اٹھتی ہے مناہل جب اللہ کے سامنے نماز میں سجدہ کرتی ہے تو چ۔یخ چ۔یخ کر روتی ہےمیں ہاتھ جوڑ کر مسلمان لڑکیوں کو کہتا مت کرو محبت کے یہاں ہوس پرست کتوں کی طرح گھوم رہے ہیں اپنا جسم ہوس پرستوں سے بچا رکھو چند لمحوں کی محبت کی خاطر زندگی بھر کے لیئے اپنا دامن داغدار نہ کر لینا اتنا جان لو محبت کا انجام صرف جسم ہے کوئی آئے سامنے آج کے زمانے میں محبت کرنے والا جو جسم کی بات نہ کرتا ہواے میری شہزادیو تم محبت کر کے وحش یہ بن جاو گی اور مرد جسم نوچ کر بھی پارسا پاکدامن رہے گا میری باتوں کو دل میں لکھ رکھو کے میں کسی شہزادی کو مناہل بنتے اب دیکھنا نہیں چاھتا۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *