امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ مجلس میں

امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ مجلس میں جلوہ افروز تھے ۔ اتنے میں دو نوجوان ایک دیہاتی آدمی کو پک۔ڑے ہوئے لائے اور آپ کے سامنے اسے کھڑا کردیا۔ امیر المونین نے پوچھا بات کیا ہے ؟نوجوانوں نے عرض کی اے امیر المومنین اس نے ہمارے والد کو ناحق ق۔ت۔ل کیا ہے۔امیر المومنین نے پوچھا تونے ان کے باپ کو کس طرح ق۔ت۔ل کیا ہے دیہاتی نے جواب دیا دراصل وہ اپنا اونٹ لے کر میری زمین میں داخل ہوگیا میں نے اسے داخل ہونے سےمنع کیا لیکن اس نے ماننے سے انکار کردیا چنانچہ میں نے اس کو پتھر دے م۔ارا۔ پتھر اس کے سر پر ایسا لگا کہ وہ وہیں ڈھی۔ر ہوگیا ۔

حضرت عمر فاروق ؓ نے دیہاتی کی گفتگو سنی اور فرمایا خ۔ون کا بدلہ خ۔ون کوئی قرار نامہ نہیں لکھا گیا بلکہ یہ فیصلہ ایسا تھا جس میں کسی من.اق.شے کی ضرورت نہیں تھی ۔ حضرت عمر ؓ نے اس دیہاتی کے خاندان کی بابت نہیں پوچھا کہ وہ کس قبیلے کا ہے کیا وہ کسی معزز قبیلے سے تعلق رکھتا ہے کیا اس کا خاندان مضبوط اور طاقتور ہے سوسائٹی میں اس کی کیا پوزیشن ہے حضرت عمرفاروق ؓ نے ان سب چیزوں کو ق۔ابل اعتنا نہیں سمجھا اور نہ اس سلسلے میں انہیں کوئی فکر دامن گیر ہوئی ۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملے میں کسی کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے ۔اور نہ شرعی حساب وکتاب میں کسی سے کوئی نرمی برتت۔ے تھے ۔ دیہاتی نے عرض کی اے امیر المومنین میں آپ سے اس ذات کا واسطہ دے کر گزارش کرتا ہوں جس کے سبب آسمان وزمین قائم ہیں کہ آپ مجھے صرف ایک رات کیلئے چھوڑ دیں تاکہ میں گاؤں جاکر اپنی بیوی اور بال بچوں سے ملاقات کرآؤں اور انہیں اس بات سے آگاہ کردوں کے عنقریب میں ق۔ت۔ل کیا جانے والا ہوں۔ اس بات سے آگاہ کرکے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں گا۔

اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ کے بعد میرے سوا میرے بال بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی اور نہیں ہے ۔ امیر المومنین نے فرمایا تو گاؤں جانے کے بعد میرے پاس لوٹ کر آئے گا اس بات کی ضمانت کون دے گا امیر المومنین کی بات سن کر لوگوں کا مجمع خاموش ہوگیا یا کیونکہ کوئی بھی آدمی اس دیہاتی کا نام تک نہیں جانتا تھا اور نہ کسی کو اسکے گھر یا خاندان کا پتا تھا ایسی صورت میں بھلا کون اسکی واپسی کی ضمانت دے سکتا تھا اور وہ ضمانت بھی ویسی نہیں تھی کہ دس دینار یا اونٹ گھوڑا یا جائیداد زمین دیکر سبکدوش ہواجاسکے بلکہ یہ گردن کی ضمانت تھی کہ اگر وہ دیہاتی واپس آگیا تو خیر ورنہ تل۔وار سے ضامن کی گ۔ردن اڑ۔ا دی جائیگی ۔ غرض سارے صحابہ کرام خاموش تھے چاروں طرف سناٹا چھایا ہوا تھا گردنیں جھکی ہوئی تھیں۔ امیر المومنین بھی بڑے متفکر ومتاثر تھے ایک مشکل میں پ۔ھنس چکے تھے کہ اب کیا کریں یا اس اعرابی کو ۔ق۔ت۔ل کردیں اور اس کے بال بچے گاؤں میں بھوک سے م۔رجائیں یا اسے گھر جانے کی اجازت دے دیں اور وہ کسی کی ضمانت دیے بغیر چلا جائے اور اگر واپس نہ آئے تو پھر م۔ق۔ت۔ول کا قصاص یوں ہی رہ جائے سارا مجمع خاموش تھا ۔امیر المومنین نے تھوڑی دیر اپنا سرجھکائے رکھا اور پھر م۔ق۔ت۔ول کے دونوں نوجوانوں بیٹوں سے فرمایا کیا تم اس ق۔ا۔ت۔ل اعرابی کا ج۔رم معاف کرسکتے ہو نوجوانوں نے عرض کی بلکل نہیں اپنےباپ کے ق۔ات۔ل کو ک۔یفر کردار تک پہنچائے بغیر ہم نہیں چھوڑ سکتے

اے امیر المومنین ۔امیرالمومنین نے مجمع کو ایک بار پھر مخاطب کرکے فرمایا اے لوگو ہے کوئی جو مجھے اس اعرابی کی ضمانت دے سکے مجمع میں سے ایک آواز آئی ہاں اے امیر ا لمومنین میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔ یہ ایک بزرگ وتقویٰ شعار کی آواز تھی یہ جلیل القدر صحابی حضرت ابو ذر غفاری ؓ تھے ۔ امیر المومنین نے فرمایا یہ ق۔ت۔ل کی ضمانت ہے ق۔ت۔ل کی ابوذر غفاری نے عرض کی خواہ ق۔ت۔ل ہی کی ضمانت کیوں نہ ہو امیر المومنین نے پوچھا کیا آپ اس دیہاتی کو پہلے سے جانتے ہیں۔ ابوذر غفاری نے کہا نہیں میری اس سے پہلے کوئی شناسائی نہیں امیر المومنین نے فرمایا پھر کس بنیاد پر آپ اس شخص کی ضمانت دے رہے ہیں ابوذر غفاری نے عرض کی میں نے اس کے اندر مومنوں کے آثار دیکھے ہیں اس لئے میں نے بھانپ لیا کہ یہ جھوٹ نہیں بول رہا ہے ۔ انشاء اللہ یہ ضرور واپس آجائے گا۔ امیر المومنین نے فرمایا اے ابوذر کیا آپ اس گمان میں مبتلا ہے کہ اگر اس اعرابی نے آنے میں تین دنوں سے زیادہ تاخیر کردی تو میں آپ کو چھوڑ دوں گا اور آپ کی جاں بخشی ہوجائیگی

ابوذر غفاری نے عرض کی اے امیر المومنین اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کی جاسکتی ہے ۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطاب نے اس دیہاتی کو تین دن کی رخصت دے دی کہ وہ ان ایام کے دوران جاکر اپنی بیوی بچوں سے آخر کلمات کہہ آئے اور ہوسکے تو کسی کو ان کا کفیل بنا چلاگیا ۔ تیسرے دن جب دیہاتی نہ پہنچ سکا تو حضرت عمر فاروق ؓ نے مدینہ منور میں عصر کے وقت اعلان کروادیا ۔ قصاص طلب کرنے والے دونوں نوجوان حاضر ہوئے اور لوگوں کا ازدحام ہوگیا ۔ حضرت ابوذر غفاری بھی تشریف لائے اور آکر حضرت عمر فاروق کے سامنے بیٹھ گئے ۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے دریافت کیا دیہاتی کدھر ہے حضرت ابوذر غفاری ؓ نے کہا مجھے معلوم نہیں اے امیر المومنین حضرت ابوذر غفاری سورج کو دیکھ رہے تھے جو تیزی کے ساتھ ڈھل رہا تھا ۔صحابہ کرام ؓ خاموشی کیساتھ حیران وششدرسرجھکائے بیٹھے ہوئے تھے جن کی کیفیت کا علم اللہ تعلایٰ کے سوا کسی کو نہ تھا۔یہ بھی سچ ہے کہ حضرت ابو ذر غفاری امیر المومنین کے دل میں بستے تھے لیکن یہاں مسئلہ شریعت کا تھا یہ دستور الٰہی کا معاملہ تھا یہ قوانین الیہہ کا مسئلہ تھا جن سے کھلواڑ نہیں کیا جاسکتا اور نہ انہیں لوگوں کے مراتب کے اعتبار سے تقسیم کیا جاسکتا ہے کہ کہیں شرعی قوانین کا چہرہ مسخ نہ ہوجائے ۔ نیز حالات سے تجاوز کرکے حد نافذ نہیں کی جاسکتی

اور نہ ایک آدمی کی جگہ دوسرے کا خ۔ون کیا جاسکتا ہے آفتاب غروب ہونے کیلئے ڈھل چکا تھا غروب سے تھوڑا پہلے سورج کی سرخی نظر آنے لگتی تھی اور چند ہی لمحوں میں وہ پوری طرح غروب ہونیوالا تھا کہ یکا یک وہ اعرابی نمودار ہوا۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے اسے دیکھتے ہی اللہ اکبر کا نعرہ لگایا ان کے ساتھ مسلمانوں نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا اور پھر وہ اعرابی تیز قدموں سے چلتے ہوئے لوگوں کے مجمع میں پہنچ گیا حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا اے آدمی اگر تو اپنےگاؤں ہی میں رک جاتا تو ہم تجھے نہیں جان سکتے تھے اور نہ تیرے گھر کا پتہ چل پاتا دیہاتی نے جواباً عرض کیا اللہ کی قسم میرے اوپر آپ کا کوئی زور نہیں ہے لیکن مجھے اس ذات کا خ۔وف ہے جو تمام رازوں اور پوشیدہ سے پوشیدہ باتوں کا بھی علم رکھتا ہے امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے م۔ق۔ت۔ول کے دونوں نوجوان بیٹوں سے فرمایا اب بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے نوجوانوں نے روتے ہوئے عرض کی اے امیر المومنین اس دیہاتی کی صداقت کی وجہ سے ہم اس کو معاف کرہے ہیں امیر المومنین نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور خ۔وشی کے آنسو ان کے داڑھی مبارک کو تر کرتے ہوئے نیچے گر رہے تھے۔

Categories

Comments are closed.