اس کی ضد تھی کہ ملنے آو مجھے میں نے آپ کو قریب سے دیکھنا ہے

سردیوں کی صبح تھی اسکی ضد تھی کہ ملنے آو مجھے تمھیں قریب سے دیکھنا ہے فون پہ عام سی بات چیت کرنے والی اس لڑکی کو کبھی میں نے اتنا سیرس نہیں لیا تھا مگر اس دن میں فری تھا تو سوچا اسکی ضد ہی پوری کر دیتے ہیں اور دیکھ لیتے ہیں کے کون ہے وہ جو بس آواز سن کر ہی محبت کی دعوے دار ہو گئی ہے ملنے کی جگہ اس نے شکر پڑیاں سلکیٹ کی اور میں وہاں پہنچ گیا دل میں ایک بے چینی سی تھی کیونکہ زندگی کا یہ پہلا تجربہ تھا اور یہ بھی سن رکھا تھا کے

ایسی ڈیس اگر پکڑی جائیں تو دھلائی کافی دھواں دھار ہوتی ہے خیر مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑھا اور وہ محترمہ ایک اداۓ خاص سے میری طرف بڑھتی ہوئی مجھے نظر آ گئی ں تھی پہلے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا تھا مگر ایس ایم ایس پر ڈریس کلر اور دیگر نشانیوں کی وجہ سے پہچان لیادہ دیکھنے میں رحسین تھی اور اسے دیکھ کے میرے دماغ میں پہلا خیال یہی آیا کے یہ تو کسی کو بھی پاگل کر سکتی ہے پھر فون کالز یہ میری اتنی مینتیں ترلے کیوں کرتی دوسرا دھیکا تب

لگا جب اس نے ہاتھ ملانے کو ہاتھ آگے بڑھتے ہوے سلام دیاسچ میرا کسی لڑکی سے ہاتھ ملانے کا یہ پہلا تجربہ تھا اور اس وجہ سے میرا ہاتھ تھوڑا کانپ بھی رہا تھا جسے اس نے محسوس کر لیا اور ایک زور دار قہقہ لگا کے بولی کمینے فون پر تو بڑی باتیں کرتا ہے اب کیا کانپ رہا ہے ؟ جوابا میں مسکرا کے رہ گیا میں وہ فیلنگز الفاظ میں نہیں لکھ سکتا جو اسے دیکھ کے میرے دل میں امڈ رہی تھی وہ نان سٹاپ بول رہی تھی اور میں بس اسے دیکھے جا رہا تھاحسن کا ایک مکمل مجسمہ تھی ،

وہ قدرت نے فہرست کے لمحات میں اس پری کو تراشا تھا میں اندر ہی اندر خود کو ڈانٹ رہا تھا کے اتنی حسین لڑکی کو آج تک اگنور کرتے آیا ہوں جب اسے احساس ہوا کے میں تو کہیں اور ہی سوچوں میں ڈوبا اسکو بولتے دیکھ رہا ہوں تو اس نے ایک دفع پھر میرا ہاتھ پکڑا اور بولی چلو چل کے کچھ کھا پی لیں شاید پھر تم کبھی ہاتھ نہ آو اب سین یہ تھا کے وہ سر بازار میرا ہاتھ پکڑ کے مجھے لیڈ کر رہی تھی اور میں اسکی اس قدر دیدہ دلیری پر حیران تھا مجھے آتا جاتا ہر

بندہ اسکا ماماں چاچا لگ رہا تھا جو خونخوار نظروں سے ہمیں ہی دیکھ رہا ہو آخر کار میں نے ہاتھ کھینچ کے اسے بول دیا کے پلیز ہاتھ چھوڑ دو لوگ کیا سوچیں گے وہ ایک دم مری اور میری شرٹ کے کالر کو پکڑ کے جھٹکے سے بولی واہ اوے شیرا مرد ہو کے ڈر رہا ہے میں لڑکی ہو کے نہیں ڈر رہی اور تیرا ہاتھ میں نے مچوڑنے کے لیے نہیں پکڑا بس اسکی یہ ادا جان لیوا تھی بازار میں اسکی اس حرکت پہ کچھ لوگوں کو لگا کے شاید کوئی گڑ بڑ ہے تو وہ ہمارے گرد جما ہو گئے

اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے مگر اس نے کمال انداز میں انہیں بھی بول دیا کے کیا دیکھ رہے ہیں آپ لوگ ہمارا کوئی گرل فرینڈ بواۓ فرینڈ والا چکر نہیں دس اذ مای فیوچر ہاسبینڈ تب ہی اچانک میری آنکھ کھل گئی اور میں نیند سے بیدار ہوا !!..

Categories

Comments are closed.