اس رات میرے قریب دو آدمی ائے انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لے

میں اس کچرے کے ڈھیر کے قرب ایک سڑک کے کنارے پیڑ کے نیچے برسوں سے زندگی کا زہ ر پی رہی ہوں شاید میرے دکھ میرے غم اس پیڑ سے نہیں دیکھے جاتے اسی لیے یہ بھی میرے ساتھ روتا ہے۔ بتاتی چلوں میرا گھر کوئی نہیں ہے سڑک کنارے ہی پیڑ میرے لیے چھت اور گھر کا کام کرتا ہے لوگ مجھے پاگل سمجھتے ہیں میری برباد زندگی پر ہنستے ہیں میرا تماشہ بناتے ہیں اور اپنے لیے تفریح کا سامان پیدا کرتے ہیں میں انہیں کیسے بتاؤں کہ میں پاگل نہیں

ہوں دیوانی نہیں ہوں بلکہ خود جان بوجھ کر پاگل بنی ہوئی ہوں کبھی ہنستی ہوں تو کبھی روتی ہوں۔ میں کچرے کے ڈھیر سے اپنے لیے ضروریات زندگی کی تلاش کرتی ہوں لوگ اپے بو سیدہ کپڑے یہاں پھینک جاتے ہیں وہ میرا بدن ڈھا نپے کے کام آ تے ہیں باسی جھوٹا کھا نا گلے سڑے پھل فروٹ کچرے کے ڈھیر سے چن کر میں اپنے پیٹ کی دوزخ بھرتی ہو اور جب کسی سفید پوش کی میلی نظر مجھ پر پڑ ی ہے تو سہمی جاتی ہوں، کچر ے کا ڈھیر میرے لیے امان مہیا کرتا ہے۔ میں اس کچرے کے ڈھیر پر گر کر اپنی عزت بچاتی ہوں۔ کیو نکہ مجھےمعلوم ہے کہ یہ سفید پوش

بھیڑ یے اپنے من کے میلے ہونے کی فکر نہیں کرتے لیکن سفید کپڑوں کی انہیں بہت فکر ہوتی ہے۔ انہیں صرف یہی فکر ہوتی ہے کہ کہیں ان کے کپڑوں پر داغ نہ لگ جائے اس لیے میرے میلے بدن سے اٹھتی ہوئی بد بو انہیں دور کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے ورنہ یہ سفید پوش بھیڑ یے کب کے مجھے چ ی ر پ ھ اڑ کر اپنا شکار کر چکے ہوتے۔ جب میں نے اس دنیا میں آنکھ کھو لی تو غربت اور جہالت میری منتظر تھی ابا محنت کش تھا مگر ن ش ے کی لت میں مبتلا تھا ن ش ے نے اس کی زندگی کو کھو کھلا کر رکھا تھا جس سے وہ محنت مزدوری کم کرتا اور ن ش ہ زیادہ۔ یوں گھر میں گربت اور تنگ دستی نے گھیر ےڈال دیے۔

ہر قت آٹا گھی چینی نہ ہونے پر اما ں ابا میں جھگڑا ہو تا فاقوں سے تنگ آ کر اماں ابا سے نہ لڑتی تو اور کیا کرتی دن بھر گھر سے باہر رہنے والا شوہر جب شام کو ن ش ے میں گھر آ تا تو اس کے دکھ کا اندازہ صرف اس کی بیوی بچوں کو ہی ہو سکتا ہے دوسرے لوگ تو محض ہنستے ہیں تما شا دیکھتے ہیں اماں اور ابا لڑتے تو محلے دار دیواروں سے کان لگا کر سنتے یا جھا نک کر دیکھتے کہ ابا نے اماں کی ہڈی پسلی ایک تو نہیں کر دی۔ اسی شور ش راب ے لڑائی جھگڑوں کے ماحول میں جوانی کی دہلیز پر پہنچی میرا بڑا ہو نا کسی ع ذاب سے کم ثابت نہ ہوا۔ابا اپنا غصہ مجھ پر اتارنے لگے

جب بھی اماں ابا میں جھگڑا ہوتا اماں کے ساتھ ساتھ مجھے بھی مارتے۔ میری طرف دیکھ کر بولی نازو تم منے کے لیے ٹافیاں لا شاید یہ چپ ہو جائے۔ یہ کہہ کر اس نے مجھے پیسے دینا چاہیے مگر اس سے پہلے ہی ماسی نے آگے بڑ ھ کر میرے ہاتھ پر دس روپے رکھ دیئے بیٹی پانچ روپے تیرے اور پانچ روپے منے کے لیے اس کے لیے جا مکھن ٹافی لے کر آ۔ میں خوشی خوشی دکان پر چلی گئی۔ جب میری دکان سے واپسی ہوئی تو دیکھا کہ ماں کے پاس بہت سے روپے تھے جنہیں وہ گن رہی تھیں مجھے دیکھ رک ماسی نوراں نے سر گوشانہ انداز میں اماں سے کچھ کہا پھر پلٹ کر چلی گئی اس کے جاتے ہی اماں نے

مجھ سے بو لا کہ تو اپنے اماں کے م رجھائے ہوئے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی ان کی رنگت بھی بدلنے لگی کبھی کبھی تو اماں حد سے زیادہ خوش ہوتی اور بناؤ سنگھار کر کے دیر تک آ ئینے کو تکتی رہتی میری اماں کی عمر زیادہ نہیں تھی وہ بہت مشکل سے تیس سے اوپر ہوگی اس کا ناک نقشہ بھی اچھا تھا بہر حال گھر کی اس پر سکون زندگی میں میں نے دل سے خدا کا شکر ادا کیا ایک اچانک میرے پیٹ میں شدید درد اٹھا تو میری آنکھ کھل گئی میں بے چینی میں کروٹ بدلنے لگی

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *