اس دن ہم ماں بیٹی گھر پر اکیلے تھے میرا باپ مجھ سے نفرت کر تا تھا

لکھنے کو الفا ظ بہت ہیں ہاں لیکن دل کی اذیت کب لفظوں میں ڈھل سکتی ہے توں سامنے ہوتی میرے آنسو دیکھتی تو شاید کچھ اثر میرے بولے گئے الفاظ کا ہوتا میں بنا قصور کے ہی ماری گئی ماں۔۔۔۔ اوپر والے نے تم لوگوں کے پاس بھیجا تھا لیکن تم نے کچرا سمجھ کر اٹھا کرپھینک دیا مجھے گھر یاد آتا ہے ماں مجھے تم یاد آتی ہو آنسوؤں کی چھڑ یاں اسکے گالوں پر بہہ رہی تھی وہ ایک شاندار کمرے میں کونے میں رکھی کرسی پر بیٹی تھی سامنے رکھی میز پر کچھ کاغذ پڑے تھے وہ قلم لیے کچھ لکھ رہی تھی میک اپ سے عاری چہرہ باقی دنوں کے مقابلے میں صاف ستھرا اور شفاف لگ رہا تھا وہ بچپن سے ہی خوبصورت نین نقوش کی مالک رہی تھی علم تھا وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی ایسا لگتا تھا۔

کہ وہ اپنی سوچ کو لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہو چہرے پر چھائے کرب کو کسی داستان میں رقم کر نا چاہتی ہو۔ بہتے آنسوؤں کو بار با ر پوچھتے ہوئے وہ قلم کو صحے پر گھسیٹ رہی تھی اور پھر ہچکیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا وہ ہچکیاں لیتے ہوئے رو رہی تھی روتے روتے اس نے شدت سے اپنا با یاں بازو پکڑ لیا تھا جو کہ ایک دن پہلے سیڑھیوں سے گر جانے کے سبب فیکچر ہو گیا تھا اور اب سفید ٹیپوں میں لپٹا تھا لگتا تھا کہ شاید وہ درد کی شدت سے ر و رہی ہے لیکن کسی کو کیا معلوم کہ یہ تو جسمانی درد تھا جس کی اس کو پرواہ نہیں تھی زندگی تو ا یسے ایسے درد دیتی ہے کہ روح تک گھا ئل ہو جاتی ہے۔

اور کچھ ایسی ہی کہانی اس کی تھی اس کا نام لاڈو تھا اماں نے مہک نام رکھا تھا البتہ ابا اسے منہوس کہا کرتے تھے۔ لیکن روتی ہوئی اس بچی کو گر وجی نے سینے سے لگاتے ہوئے لاڈو نام دیا تھا جو کہ اس کی پہچان بن گیا تھا خوبصورت نین نقوش کی مالک کہیں سے بھی خواجہ سرا نہیں لگتی تھی ایک نازک سی لڑکی لگتی تھی جس کو دیکھ کر کوئی بھی یقین نہیں کر ے کہ یہ خواجہ سرا ہے دنیا میں رشتے ملتے ہیں محبت ملتی ہے لیکن اس کو صرف آنسو ملے تھے۔ پیدائش پر صرف ماں ہی تھی جس نے ما تھا چوم کر سینےسے لگا یا تھا ابا کا رویہ ہمیشہ سخت رہا تھا میں گھر میں آؤں تو اسے میری نظروں سے دور رکھا کرو ۔ ابا غصے سے چنگھاڑتے تو اماں سہم سی جاتی اور وہ ایک کمرے میں دبک کر بیٹھ جاتی محلے اور رشتے داروں کے طنز سے تنگ آکر اکثر ابا چپل سے اس کی چمڑی ادھیڑ دیتے اماں ڈرتے ڈرتے آگے بڑ ھتےی دبی آواز میں روتی ہوئی اس کو بچانے کی کوشش کرتی اور اکثر اباآپ کے غیض و غضب کا شکار ہو جاتی ۔

سب بہن بھائی اسکول جاتے تھے ور وہ ماں کے ساتھ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتی تھی صبح ابا کے جانے کے بعد وہ کمرے سے نکلتی اور شام کو ابا کےآنے سے پہلے ہی کمرے میں بند ہو جاتی۔ اما چپکے سے روٹی ور سالن اس کے کمرے میں رکھ جاتی تھی بہن بھائی بھی اس سے نفرت کرتے تھے اور مخاطب کر نا بھی پسند نہ کرتے تھے یا شاید ابا کی دی گئی تاکید پر اس سے دور رہتے تھے مہمانوں کے آنے پر اسے کمرے سے نکلنے کی اجازت نہ تھی اپنے گھر میں رہتے ہوئے بھی وہ کسی قید خانے میں بند اس قیدی جیسی تھی جو کہ بنا کسی قصور کے سزا کاٹ رہا ہوں آج ابا بتا کر گیا تھا کہ وہ دیر سے گھر آئے گا لاڈو بہت خوش تھی بہن بھائی نانی کے گھر گئے ہوئے تھے گھر میں اماں تھی اور صرف لاڈو تھی۔

Categories

Comments are closed.