”اس ایک تسبیح سے آپ کی ہر دعا قبول ہوگی۔بس روزانہ 100 بار“

اس تحریر میں ایک ایسی تسبیح کے بارے میں بتایا جارہاہے کہ جس کو اگر آپ روزانہ پڑھتے ہیں

تو آپ کی تمام مشکلات انشاء اللہ ختم ہوجائیں گی دکھوں غموں اور پریشانیوں سے نجات حاصل ہو گی اگر محتاجی نے آن گھیرا ہے تو اس عمل کی برکت سے غربت و تنگدستی کا خاتمہ ہو جائے گا وہ تسبیح انتہائی آسان اور مختصر ہے لیکن ایک بات ذہن میں رکھئے کہ یقین شرط ہے اگر یقین نہیں تو کچھ نہیں اس کے ساتھ ساتھ پانچ وقت کی نماز کی پابندی بہت ضروری ہے

اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہر امیر غریب نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت غموں دکھوں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے لیکن وہ انسان خوش قسمت ہے جو اس غم دکھ اور پریشانی کو صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کرتا ہے انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ مشکلات اور پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتا ہے

اور دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے حضور اکرم ﷺ نے دعا کو عبادت کی روح قرار دیا ہے دعا عبادت کی روح اور اس کا مغز ہے نیز حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا دعا عین عبادت ہے ہر شخص محتاج ہے اور زمین و آسمان کے سارے خزانے اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہیں وہی سائلوں کو عطاکرتا ہے ارشاد باری ہے اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ہو انسان کی محتاجی اور فقیری کا تقاضا یہی ہے

کہ بندہ اپنے مولا سے اپنی حاجت و ضرورت کو مانگے پر اپنے کسی بھی عمل کے ذریعے اللہ سے بے نیازی کا شائبہ بھی نہ ہونے دے کیونکہ یہ مقام عبدیت اور دعا کے منافی ہے دعا کی اہمیت کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں اپنے بندوں کو نہ صرف دعا مانگنے کی تعلیم دی ہے بلکہ دعا مانگنے کا طریقہ بھی بتایا ہے

نیز ارشادِ باری ہے اے پیغمبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق دریافت کریں تو فرما دیجئے کہ میں قریب ہی ہوں جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں غرض یہ کہ دعا قبول کرنے والا خود ضمانت دے رہا ہے کہ دعا قبول کی جاتی ہے اس سے بڑھ کر دعا کی اہمیت کیا ہوسکتی ہے نیز اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا

تمہارے پروردگار نے کہا کہ تم مجھ سے دعاکرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے پروردگار میں بدرجہ غایت حیا اور کرم کی صفت ہے جب بندہ اس کے آگے مانگنے کے لئے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اس کو حیا آتی ہے کہ ان کو خالی ہاتھ واپس کردے یعنی کچھ نہ کچھ عطا فرمانے کا فیصلہ ضرور فرماتا ہے

حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد درحقیقت سائل کے لئے امید کی کرن ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا کریم ہے جو مانگنے والوں کو کبھی محروم نہیں کرتا اور بندہ کی مصلحت کے مطابق ضرور عطا کرتا ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس کے لئے دعا کا دروازہ کھل گیا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھل گئے اور اللہ کو سب سے زیادہ محبوب یہ ہے کہ بندہ اس سے عافیت کی دعا کرے

حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کو مومن کا خاص ہتھیار یعنی اس کی طاقت بتایا ہے دعا کو ہتھیار سے تشبیہہ دینے کی خاص حکمت یہی ہوسکتی ہے کہ جس طرح ہتھیار دشمن کے حملہ وغیرہ سے بچاؤ کا ذریعہ ہے اسی طرح دعا بھی آفات سے حفاظت کا ذریعہ ہے ۔وہ خاص تسبیح یہ ہے :سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم اس کو آپ نے روزانہ سو بار پڑھنا ہے انشاء اللہ آپ کی مشکلات ختم ہوجائیں گی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.