آلو اس طریقے سے کھائیں

آلو ایسی سبزی ہے جسے دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے اور مختلف شکلوں میں کھایا جاتا ہے

۔مگر اکثر افراد اسے صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند نہیں سمجھتے جس کی وجہ فاسٹ فوڈ اور فرنچ فرائیز کے نقصانات سمجھے جاسکتے ہیں۔مگر کیا اس سبزی کو روزانہ کھانا عادت بنالینا صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے؟تو اس کا جواب ہے کہ ہاں اسے روز کھانے سے گھبرائیں مت۔آلو کے چھلکے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں جو دل کو صحت مند رکھتا ہے ج

بکہ اس سبزی میں فاسفورس، میگنیشم، کیلشیئم، سوڈیم، آئرن اور زنک بھی موجود ہوتا ہے۔پوٹاشیم بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بھی ضروری جز ہے تو آلو اس عارضے سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔ایک آلو سے آپ کے جسم کو روزانہ درکار وٹامن سی کی 45 فیصد مقدار مل سکتی ہے تاہم اس کی بڑی مقدار دوبارہ گرم کرنے پر ضائع ہوجاتی ہے تو اسے پکنے کے بعد فوری کھالیں اور چھلکے کے بغیر کھائیں تو زیادہ فائدہ ہوگا۔

اس کے علاوہ آلو میں موجود فائبر آنتوں کی صحت کے لیے بہترین ہوتا ہے، جس سے نظام ہاضمہ کی صحت بہتر ہوتی ہے۔آلو میں کیلشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔آلو میں کولیسٹرول نہیں ہوتا تاہم پکانے کا طریقہ اس کااضافہ کرسکتا ہے جیسے فرنچ فرائیز یا اسے تل کر کھانے کی صورت میں اور ہاں آلو جلد کی صحت بھی بہتر کرتا ہے جبکہ ڈپریشن اور ذہنی تناﺅ سے بچاﺅ میں بھی مدد دیتا ہے

آلو کو مختلف شکلوں میں کھایا جاسکتا ہے مگر اسے ابال کر کھانا پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا رکھنے میں مدد دیتا ہے، یعنی کم کھانے سے بھی پیٹ دیر تک بھرا رکھتا ہے اور جسمانی وزن تیزی سے کم ہوتا ہے۔کبھی کبھار آلو کھانے کی عادت موٹاپے کا باعث بھی بن جاتی ہے خصوصاً اگر انہیں تل کر کھایا جائے یا چربی والی اشیاءجیسے مکھن یا چربی کے ساتھ کھایا جائے۔ذیابیطس کے مریضوں کو آلو کے حوالے سے کافی خیال رکھنا پڑتا ہے

کیونکہ ان میں گلیسمک انڈیکس بہت زیادہ ہوتا ہے مگر انہیں ٹھنڈا کرکے کھانا بلڈ شوگر لیول پر اثرانداز ہوکر اسے 25 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔کچے آلو کھانے سے گریز کریں کیونکہ اس میں سولائن کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو پکنے کے بعد بھی کم نہیں ہوتی مگر پھر نقصان نہیں پہنچاتی، کچی شکل میں کھانا نقصان پہنچا سکتا ہے۔مجموعی طور پر آلو صحت کے لیے ایک بہترین غذا ہے۔باہر کھانا کھانے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ہر خاص وعام بازار کے کھانوں کا شوقین نظر آتا ہے۔جگہ جگہ فوڈ اسٹریٹ قائم ہو چکی ہیں۔جن میں طرح طرح کے کھانے دستیاب ہوتے ہیں۔ہر ویک اینڈ پر باہر جاکر کھانا کھانا سب سے

مقبول تفریح بن چکی ہے۔باہر کے کھانے دیکھتے ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے لیکن یہ کس طرح تیار ہوتے ہیں اکثر لوگ اس سے نا واقف ہیں۔جب ہم اپنا کھانا خود تیار کرتے ہیں تو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اس میں استعمال ہونے والی ہر چیز صاف ستھری اورخالص ہو۔اس کی تیاری میں کوئی مضر صحت چیز شامل نہ ہو۔جب ہم یہی چیز باہر کھاتے ہیں تو وہ اچھی تو بہت لگتی ہے لیکن اس کے صاف ستھراہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔فوڈ اسٹریٹ اور ریستورانوں میں تیار شدہ یہ کھانے صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہیں۔جو انسانی جسم کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.