آزادی ایک بڑی نعمت

ایک پنجرے میں بند دو چڑیاں اس زمانے کی باتیں کر رہی تھیں جب وہ آزاد فضاؤں میں پرواز کیا کرتی تھیں۔تب نیکو نے کہا:”ارے میکو! یہ انسان ہمیں اپنے شوق کے لئے قید کر لیتے ہیں۔ان کو ذرا سا احساس نہیں کہ ہم پر کیا گزرتی ہے۔“ایک نے کہا:”انسان تو ہر طرح آزاد رہتے ہیں۔“”آزادی کی اصل قدر تب معلوم ہوتی ہے جب وہ چھن جاتی ہے۔“

دوسری چڑیا نے جواب دیا:”آزادی کی قدر ہم سے پوچھے جو اتنے دنوں سے قید ہیں۔“عبداللہ اپنے گھر میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔کورونا کی وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن تھا،اس لئے وہ گھر میں قید ہو کر رہ گیا۔نہ دوستوں سے مل سکتا تھا اور نہ کہیں گھومنے پھرنے جا سکتا تھا۔ اس کی والدہ نے اُسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا:”تم پریشان مت ہو۔

یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا۔“

آخر ہفتوں بعد لاک ڈاؤن ختم ہوا تو عبداللہ بازار کی طرف جاتے ہوئے بہت خوش نظر آرہا تھا۔وہ ویڈیو گیمز والی دکان کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر پرندوں والی دکان پر پڑی۔اس نے پرندوں کو پنجروں میں یوں قید دیکھا تو اس کو اپنا لاک ڈاؤن کے دوران گھر میں گزرا وقت یاد آگیا کہ وہ اس وقت کتنا بے چین ہو گیا تھا۔

اس کے قدم وہیں رک گئے۔اس نے دکان دار سے ان پرندوں کی قیمت پوچھی،پھر ویڈیو گیمز کھیلنے کے لئے جمع کی ہوئی رقم دکان دار کی طرف بڑھا دی،جو کہ پرندوں کی قیمت کے برابر تھی۔عبداللہ نے خود آگے بڑھ کر پنجروں کو کھول دیا۔پنجرے کا دروازہ کھلا تو دونوں چڑیاں چوں چوں کرتی ہوئی اُڑ گئیں،جیسے کہہ رہی ہوں۔

”اللہ کا شکر ہے کہ اس نے بچے کے دل میں یہ احساس پیدا کیا کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔“

Categories

Comments are closed.