آدمی کو اللہ نے تین بیٹے دیے اسے اپنے بیٹوں پر بہت غرور تھا

ایک آدمی کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی باپ کو اپنے تینوں بیٹوں سے بہت پیار تھا ۔ لیکن وہ اپنی بیٹی سے پیار نہیں کرتا تھا ۔ کیونکہ وہ بیٹی کو بوجھ سمجھتا تھا اور کہتا تھا کہ بیٹے باپ کا سہارا ہوتے ہیں لیکن بیٹیاں باپ کے لئے مصیبت ہوتی ہیں ۔ اس نے اپنے تینوں بیٹوں کو پڑھایا لکھایا ۔ لیکن اپنی بیٹی کو نہ ہی سکول کی تعلیم دلائی اور نہ ہی دین کی ۔ اس لڑ کی کو قرآنپڑھنے کا بہت شوق تھا ۔

اس نے اپنے باپ سے کہا کہ وہ قرآن پڑھنے مدرسے جانا چاہتی ہے لیکن اس کے باپ نے کہا ہمارے ہے ۔ خاندان میں لڑکیاں گھر سے باہر نہیں جاتیں , وہ لڑ کی سارا دن اپنے گھر کا کام کرتی رہتی اور سوچتی رہتی کہ کیا ایک لڑکی کی زندگی ایسی ہوتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنے گھر والوں کا بہت خیال رکھتی تھی ۔ یوں ہی سال گزرتے رہے اور باپ نے اپنے بیٹوکی شادی کر دی پھر بیٹے اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ مصروف ہو کئے پر اس کی بیٹی ایک ماں کی طرح اپنے باپ کی دیکھ بھال کرتی رہی ۔ ایک دن اس کا باپ بہت پیار ہو گیا اور کافی دفعہ دوائی کھانے کے بعد بھی اس کی طبیعت ٹھیک نہ ہوئی تو اسے ہسپتال میں پہنچایا گیا ۔

وہاں ایکسرا کرانے کے بعد پتہ چلا کہ اس کے دونوں گردے خراب ہو چکے ہیں اگر جلد ہی گردےکا انتظام نہ کیا گیا تو ان کی جان بھی جاسکتی ہے ۔ یہ سن کر اس کی بیٹی بہت پریشان ہو گئی اور ہر روز خدا سے اپنے باپ کی سلامتی کے لیے دعا مانگنے لگی ۔ لیکن بیٹوں کو اپنے باپ کی کوئی پرواہ نہیں تھی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے باپ کی طبیعت زیادہ خراب ہونے لگی ۔ ڈاکٹر نے اس کے بیٹوں سے کہا اگر دو دن میں تمہارے باپ کو گردہ ٹرانسپلانٹ نہیں کیا گیا تو اس کوبچانا ناممکن ہو جاۓ گا ۔ پھر بھی اس کے بیٹوں نے اپنے باپ کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ۔ پھر اس کی بیٹی نے ڈاکٹر سے کہا کہ میرا گردہ میرے باپ کو دے دو لیکن انہیں بچالو , تو ڈاکٹر نے اس کی بیٹی کا گردہ اس کے باپ کو دے کر اس کی جان بچالی ۔ اس طرح ایک بیٹی نے اپنے باپ کو مرنے سے بچا لیا ۔ جب اس کے باپ کو پتہ چلا کہ اس کی بیٹی نے اس کی جان بچائی ہے تو وہ اپنیبیٹی کو سینے سے لگا کر بہت رویا ۔ اور کہا بیٹی مجھے معاف کر دو ۔ دوستوں بیٹیوں کو بوجھ مت سمجھو میٹیاں بوجھ نہیں ہو تیں کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ جتنا پیار جتنی خوشی ایک بیٹی اپنے والدین کو دے سکتی ہے ایک بیٹا نہیں دے سکتا ۔

Categories

Comments are closed.