آدمی اپنی بیوی کے ہمراہ چند لوگوں کے ساتھ ایک کشتی میں

حضرت علی بن حسین علیہ السلام سے منقول ہے کہ ایک شخص چند لوگوں کے ساتھ ایک کشتی میں سوار ہوا ۔ اس شخص کے ساتھ اس کشتی پر سوار تھی ۔ پھر اچانک اس کشتی میں سوراخ ہوا نی کیتی میں سوار سب لوگ غرق ہو گئے لیکن اس کی بیوی بھی کا اور وہ ڈوب شخص کی بیوی کشتی کے ایک تختے کے ساتھ لپٹ گئی وہ تختہ دریا میں بہتا ہوا عورت کو ایک جزیرے پر لے گیا جہاں پر ایک ڈاکو رہتا تھا جو کبھی بھی بد کاری سے باز نہیں آتا تھا ۔ جب اس نے جزیرے میں ایک اکیلی عورت دیکھی تو اس سے پوچھنے لگا کہ تم انسانوں میں منی

سے ہو یا جنوں میں سے عورت کہنے لگی کہ میں انسانوں میں سے ہوں ۔ یہ سن کر وہ عورت سے لپٹ گیا اور زنا کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔ عورت نے بہت کوشش کی کہ وہ زنا سے باز آجاۓ مگر زنا کے لیے تیار ہو وہ کمزور اور بے بس بھی ۔ جب وہ آدن تھا ۔ ڈاکو نے عورت سے پوچھا کہ تم اتنی بے چین اور بے قرار کیوں ہو رہی ہو ۔ عورت نے آسان کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا کہ میں اللہ سے ڈرتی ہوں ۔ اس کے عذاب سے ڈر لگتا ہے ۔ پھر اس آدمی نے پوچھا کہ کیا پہلے

تم نے یہ کام بھی نہیں کیا ۔ عورت نے کہا خدا کی عزت کی قسم میں نے بھی زنا نہیں کیا ۔ پھر ڈاکو نے کہا کہ تم ٹھیک کہتی ہو ۔ میں نے کسی عورت کو اتنے خوف میں بھی نہیں دیکھا اور یہ بات اس کی دلیل ہے کہ تم نے کبھی بد کاری نہیں کی ۔ ڈاکو نے ندامت بھرے لہجے میں کہا کہ تم اللہ سے اتنا ڈر رہی ہو جبکہ یہ فعل تمہارے اختیار میں نہیں ہے بلکہ میں خود جبر اور اختیار سے ہی کر رہا ہوں ، اور اس بات کا میں زیادہ حقدار ہوں کہ میں اللہ سے ڈروں اور زیادہ مناسب ہے کہ میں اس کا خوف کروں ۔

اس نے اپنے بال نوچتے ہوۓ کہا کہ افسوس ہے مجھ پر اور میری زندگی پر یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اس فعل کو ترک کر دیا ۔ وہ عورت سے کچھ نہ بولا اور ملامت زدہ چہرے لیے واپس گھر چلا گیا اور دل میں سوچ رہا تھا کہ میں اپنے گناہوں سے توبہ کروں گا ۔ سخت گرمی کا دن تھا راستے میں ایک راہب سے اس کی ملاقات ہوئی اور ان دونوں نے اپنا سفر جاری رکھا ۔ جب دھوپ برداشت سے زیادہ ہو گئی تب راہب نے اس آدمی سے کہا کہ دعا کرو کہ خدا ہمارے اوپر ایک ابر بھیج دے جو ہم پر سایہ کرے ۔ وہ آدمی کہنے لگا میری

ساری زندگی گناہوں میں گزری ہے میرا کوئی ایسا نیک عمل نہیں ہے کہ اللہ سے کوئی حاجت طلب کروں ۔ پھر راہب نے کہا اچھا ٹھیک ہے میں دعا کرتا ہوں اور تو آمین کہتا جاد پس راہب نے دعا کی اور اس آدمی نے آمین کہا ۔ تھوڑی دیر بعد ہی ایک ابر ان کے اوپر سامی فگن ہو گیا ۔ ان دونوں نے اپنا سفر جاری رکھا حتی کہ ایک دو راها آ گیا اور ان دونوں کے راستے جدا ہو گئے ۔ ایک راستے پر راہب چل پڑا اور دوسرے پر وہ آدمی ۔ مگر وہ ابر کا ٹکڑا اس آدمی کے اوپر ہی رہا اور راہب دھوپ میں ہی رہ گیا ۔ یہ دیکھ کر راہب دوڑتا ہوا اس

آدمی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تم مجھ سے بہتر ہو , حقیقت یہ ہے کہ میری نہیں بلکہ تیری دعا قبول ہوئی ہے ۔ سچ سچ بتاؤ کہ تم نے کونسا ایسا نیک عمل کیا ہے جو تم مجھ سے بہتر ہو گئے ۔ اس آدمی نے جزیرے والا سارا واقعہ بیان کیا ۔ راہب نے کہا چونکہ تم نے اللہ کے خوف سے گناہوں کو ترک کیا تو اس مالک حقیقی نے تمہارے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیے ۔ بس کوشش کرنا کہ آئندہ تم نیک اور صالح ہی رہو اور دوبارہ گناہوں کی طرف راغب نہ ہونا ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *