آج پہلی رات تھی بستر پہ پھول سجائے گئے تھے

نصیب سے ہار گئی میں آج پہلی رات تھی بستر پہ پھول سجائے گئے تھے اور کامران کی شادی ہوئی تھی شادی بہت دھوم دھام سے کی گئی نبیلہ بیڈ پہ بیٹھی تھی کیمرہ مین تصاویر بنا رہا تھا وہ کبھی دائیں سر کر رہی کبھی بائیں طرف سب لوگ نئے تھے ہر چہرہ اجنبی تھا۔کامران پاس بیٹھا تھا سب محلے والے دلہن دیکھنے آئے ہوئے تھے نبیلہ نظریں جھکائے بیٹھی ہوئی تھی رات کے باراں بج چکے تھے وہ بہت تھک چکی تھی بھوک سے برا حال تھا سب چلے گئے دروازہ بند ہوا کامران نبیلہ کے پاس بیٹھا آپ ایسا کر یں چینج کر لیں تھک گئی ہوں گی نبیلہ نے ڈریس چینج کیا بھوک سے اس کی حالت غیر ہو رہی تھی لیکن کیا کر سکتے تھے کا مران کو اس کی تھکن سے کیا واسطہ تھا۔

وہ محبت بھری باتیں کہاں کر نا چاہتا تھا نبیلہ کو اپنی مردانگی کا روب ڈالتے ہوئے دیکھو مجھے تماشے اچھے نہیں لگتے میری باتیں کان کھول کر سن لو میں بار بار یہ باتیں نہیں بولوں گا گھر کے سارے کام تمہارے ذمہ ہیں کھا نا بنانے سے لے کر جھاڑو صفائی تک سن رہی ہو نا نبیلہ نے ہاں میں سر ہلا یا نبیلہ سوچ رہی تھی کوئی گفٹ دے گا کوئی محبت بھری باتیں کر ے گا۔ لیکن اس کو نبیلہ سے کام کروانے کی فکر تھی شادی کے دن گزر گئے ہاتھ میں جھاڑو مقدر میں کچن لکھ دیا نبیلہ کی جھٹانی ان کی رشتہ دار تھی لیکن یہ غیروں سے بیاہ کر گئی تھی۔

نبیلہ کھا نا بنا نا صاف صفائی کر نا کپڑے بر تن سب کام جب تھک کر ٹوٹ جاتی تو رات کو شوہر کے نخرے اٹھا نا کا مران بہت روکھے ہوئے لہجے میں بات کر تا تھا نبیلہ سے رات ڈنر ہوا اپنے کمرے میں چلے گئے نبیلہ کا مران کے پاس بیٹھ گئی کامران شادی کو تین مہینے گزر گئے ہیں۔ آپ مجھے کہیں گھمانے لے کر نہیں گئے کا مران حیرت سے دیکھ رہا تھا نبیلہ کی طرف نبیلہ گھمانے مطلب کہا ں جا نا ہے تم نے اس نے اتنے روکھے لہجے میں پوچھا کے نبیلہ سہم سی گئی کا مران آپ کیوں اتنے غصے سے بات کرتے ہیں مجھ سے کا مران ٹی وی دیکھتے ہوئے بو لا جاؤ میرے کپڑےا ستری کر و دماغ نہ خراب کرو یا ر میرا سارا دن کا تھکا ہوا ہوں میں پیروں کی طرف بیٹھ گئی اچھا چلیں آپ لیٹ جا ئیں میں آپ کو دبا دیتی ہوں۔

کا مران میں نے شادی سے پہلے بہت دکھ دیکھے ہیں مجھے محبت چاہیے آپ کا ساتھ چاہیے آپ کیوں میری آنکھوں سےمیرا درد نہیں سمجھ پاتے اصل میں نبیلہ کی ماں نہیں تھی سو تیلی ماں کے ساتھ جوان ہوئی اور سوتیلی مائیں کیا سلوک کر تی ہیں یہ مجھے لکھنے کی ضرورت نہیں ہے نبیلہ نے بہت درد سہا تھا سو تیلی ماں کے ہاتھوں یہاں ایک ظلم یہ بھی تو کیا گیا تھا نبیلہ بیس سال کی تھی اور کا مران چھتیس سال کا جیسے نبیلہ سے جان چھڑانی تھی ان لوگوں نے وہ قدموں کے ساتھ لپٹی ہوئی اپنے ہم سفر سے احساس کی بھیک سی مانگ رہی تھی صبح وہ فجر کی نماز سے پہلے جاگ جاتی ناشتہ بنانا سب کے لیے اس کا ذمہ تھا وہ اپنا درد کسی پہ عیاں نہ ہونے دیتی تھی وہ بس اپنے گھر میں آباد ہونا چاہتی تھی کامران کا ساتھاسے چاہیے تھا بس اکثر کبھی تھکن کی وجہ سے بر تن نہ دھو سکتی یا جھاڑو ٹائم پہ نہ لگا پاتی تو ساس اسے لاکھوں باتیں سناتی۔

Categories

Comments are closed.